کرشمہ کے سابق شوہر کی موت، شوبز ستارے گھر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بھارتی اداکارہ کرشمہ کپور کے سابق شوہر و بچوں کے والد سنجے کپور کی موت کی خبر ملتے ہیں شوبز ستاروں نے اداکارہ کے گھر پہنچنا شروع کردیا۔
کپور خاندان کی وہ پہلی لڑکی جس نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا اور پھر اپنی بہن کرینہ کپور کو بھی اس انڈسٹری کا حصہ بننے میں مدد کی ‘لولو’ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔
کرشمہ کپور کے بالی وڈ میں کتنے ہی اسکینڈلز ہوں لیکن انہوں شادی انڈسٹری سے باہر ایک بزنس مین سے کی جنکا نام سنجے کپور تھا۔
کرشمہ کپور اور سنجے کپور کی شادی 29 ستمبر 2003 کو اداکارہ کی خاندانی رہائش گاہ، ممبئی میں کرشنا راج بنگلہ میں ہوئی۔
ایک دہائی سے زیادہ ایک ساتھ رہنے کے بعد جوڑے نے 2014 میں باہمی رضامندی سے طلاق کے لیے درخواست دائر کی تھی تاہم 2015 میں انہوں نے اپنی رضامندی واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا، بالآخر 2016 میں ان کی طلاق ہو گئی۔
یوں تو کرشمہ کا سنجے سے شادی کا بندھن ٹوٹ گیا تھا لیکن وہ اپنے بچوں یعنی بیٹی سمیرا اور بیٹے کیان کی وجہ سے ملاقات کرتی تھیں۔
سنجے کپور صرف بزنس کی دنیا تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کے روابط بالی وڈ سے بھی مضبوط تھے۔
ان کی موت کی خبر سامنے آتے ہی کرشمہ کے اہل خانہ اور قریبی دوست ان کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور ہمدردی کے لیے ان کے گھر پہنچے۔
موت کے چند گھنٹوں بعد کرشمہ کپور کی بہن و سپر اسٹار کرینہ کپور اپنے شوہر و فلم اسٹار سیف علی خان کے ساتھ آدھی رات کو کرشمہ کپور کے گھر پہنچے۔
کرینہ اور سیف سے قبل کرشمہ کی بہترین سہلیاں ملائکہ اروڑا اور امریتا اروڑا بھی تعزیت کے لیے پہنچیں۔
واضح رہے کہ کرشمہ اور سنجے کی طلاق ایک طویل قانونی جنگ کے بعد ہوئی تھی جس میں کرشمہ نے جسمانی تشدد، جہیز کی مانگ اور یہاں تک کہ “نیلامی” جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے تھے۔ 2016 میں عدالت نے دونوں کو باضابطہ طور پر طلاق دے دی، بعد ازاں سنجے نے 2017 میں پریا سچدیو سے شادی کی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرشمہ کپور سنجے کپور کے لیے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔