عمران خان کا کرشمہ یا شعور کا زوال؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کی تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے کرشماتی شخصیت، جھوٹے دعووں یا نجات دہندگی کے فریب سے اقوام کو اندھے پیروکار بنا کر تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا۔ مسیلمہ کذاب، عبداللہ بن سبا، مرزا غلام احمد قادیانی، جم جونز جیسے لوگوں کی فہرست لمبی ہے اور ان کے پیروکاروں کی تباہی کی اصل وجہ بھی ان کے عقیدت مندوں کی اندھی عقیدت، سچائی سے انکار اور نرگسیت زدہ ذہنیت تھی۔ اور یہی وہ روش ہے جو آج پاکستان میں ایک مخصوص سیاسی کلٹ کے اندر پروان چڑھ چکی ہے۔ اس کلٹ کے روح رواں عمران احمد خان نیازی ہیں۔ ایک کرشماتی شخصیت، جنہوں نے پاکستان کے نوجوانوں میں سیاسی جوش جگایا، شوکت خانم اور نمل جیسے منصوبے دیے، لیکن ساتھ ہی ایک پوری نسل کے شعور کو یرغمال بنا لیا۔ ان کے چاہنے والوں نے ایسا اندھا یقین اختیار کر لیا ہے کہ باقی سب سیاسی، مذہبی یا فلاحی ادارے انہیں دشمن نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر جماعت اسلامی جس کے ہر فلاحی و دینی کام، جیسے غزہ کے لیے احتجاج، الخدمت کی قربانی مہم، یا نعیم الرحمن کی الجزائر کے قافلے کے لیے دعا، ان کے فالورز کی گالیوں اور تمسخر کا نشانہ بنتی ہے۔ حالانکہ کراچی کے بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کی بے وفائی اور دھوکا سب کے سامنے ہے اس کے باوجود جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جس نے 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مفت قانونی مدد فراہم کی لیکن ان میں شکرگزاری کا جذبہ بالکل نہیں۔ یہ سب سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ کیونکہ عمران خان جانتے ہیں کہ ان کے تمام اسلامی نعرے جماعت اسلامی سے مستعار لیے گئے ہیں، اور اگر ان کا اعتراف کیا جائے تو فالورز اصل منبع کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ ان کے اقتدار کے راستے میں ساتھ دینے والے علیم خان، جہانگیر ترین اور چودھری سرور جیسے لوگوں کی پارٹی سے علٰیحدگی کی وجہ بھی کپتان کی احسان فراموشی ہے۔ جن کے جہاز، کندھے اور سرمایہ استعمال کیا بعد میں اْنہیں ایک طرف کردیا۔
کپتان کی ذاتی زندگی بھی اسی احسان فراموشی کا شاہکار ہے: • ماجد خان نے عمران کو کرکٹ میں متعارف کرایا، اور انہی کے خلاف کپتان سازش کرتے پائے گئے۔ • سیتا وائٹ سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، لیکن اسے نہ قبول کیا، نہ کبھی کلمہ سکھایا چونکہ اْن دنوں سیتا وائٹ کی جائداد پر بھائیوں نے قبضہ کرلیا تھا اور وہ اپنے محل نما گھر کے اخراجات بھی اٹھانے کے قابل نہ تھی۔ کپتان اْس مشکل گھڑی میں اپنی محبوبہ اور بیٹی کو تنہا چھوڑ دیا چونکہ جمائمہ جیسی دولت مند خاندان کی بیوی اس کے ہاتھ لگ گئی تھی۔ ریحام خان کو ذلیل و رسوا کرنے کے لیے ٹی وی پر فرمایا: ’’اگر بیوی ایک لاکھ کا پرس مانگے تو طلاق دے دوں گا‘‘۔ کیا ایسا جملہ کسی غیرت مند شوہر کی زبان سے نکلتا ہے؟
یہاں سوال یہ ہے کہ جمائما خان کیوں کپتان کو سپورٹ کرتی ہیں؟ کیا اس کی ممکنہ وجہ کوئی بڑا اور گہرا ایجنڈہ بھی ہے؟
آج جمائما خان، جو کسی زمانے میں کپتان کی شریکِ حیات تھیں، ان کی بیٹی کی کو گود لیا، اور اسے پالا تاکہ عمران خان کے سیاسی مستقبل کو نقصان نہ پہنچے۔
بین الاقوامی معاملات میں بھی یہی دوغلہ پن نظر آتا ہے: • امریکا پر سازش کا الزام لگایا، پھر اسی امریکا سے مدد مانگی۔ • امت مسلمہ کا نعرہ لگایا، لیکن غزہ پر اسرائیلی بمباری پر کبھی ایک مذمتی ٹویٹ نہ کی۔ • ڈاکٹر عافیہ کے نام پر ووٹ لیے، اور جب ٹرمپ سے ملاقات ہوئی، تو ذکر تک نہ کیا۔
عمران خان کے فالورز بھی اْس جیسی ذہنیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر الخدمت کے پوسٹ کے نیچے بدزبانی، جماعت اسلامی کے ٹویٹس پر گالیاں، اور کسی بھی مثبت کام کو توہین میں بدل دینا ان کا مزاج بن چکا ہے۔
ایک واقعہ یاد آتا ہے: کپتان کے ایک چاہنے والے نے پیٹرول مہنگا ہونے پر لکھا، ’’اگر دس لاکھ کا بھی لیٹر ہو جائے، ووٹ خان صاحب کو دوں گا!‘‘ نیچے کمنٹس میں کسی نے یاد دلایا کہ ’’اگر اتنے امیر ہو تو الخدمت سے ماہانہ وظیفہ کیوں لیتے ہو؟‘‘ یہی تضاد، یہی نفسیاتی الجھن آج کے نوجوان کو شعور سے دور کر رہی ہے۔ سانحہ 9 مئی کے بعد جب انیل مسرت جیسے قریبی ساتھی سے سوال کیا گیا کہ جماعت اسلامی پر حملے کیوں ہو رہے ہیں؟ تو جواب آیا ’’کارکن لاعلم ہیں‘‘۔ میرا سوال تھا کہ اگر لیڈر خود شکریہ ادا کرے تو لاعلمی باقی رہتی ہے؟ یہ اندھی عقیدت، یہ شخصی پرستی، یہ دیوتا سازی ہمیں کسی گمراہ فرقے کی طرح اخلاقی و فکری بربادی کی طرف لے جا رہی ہے۔ فارسی کی ایک کہاوت ہے کہ ’’احسان فراموشی کا انجام بربادی ہے‘‘۔
پی ٹی آئی کے سنجیدہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ آنکھیں کھولیں۔ سچ کو سچ کہیں، جھوٹ کو جھوٹ مانیں۔ شخصیت کی پرستش بند کریں۔ نہ عمران خان فرشتہ ہیں، نہ ان کے مخالفین شیطان۔ نہ کوئی مسیحا، نہ کوئی دیوتا، سب انسان ہیں، اور انسان کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ یہ کالم نہ کسی سیاسی دشمنی کا نتیجہ ہے، نہ کسی جماعت کی وکالت۔ یہ تو ایک فریاد ہے۔ اس معاشرے کے لیے جو شخصیت پرستی کے اندھیرے میں بھٹک رہا ہے۔
کسی کو دے کے وفا، بے وفائی مت کرنا
کہ زخم وقت پہ دے، پھر صفائی مت کرنا
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے لیے
پڑھیں:
عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت ختم ہو چکی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں رہا کر دیا جائے تاکہ یہ حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کل نہیں بلکہ آج ہی رہا ہو جائیں تاکہ ان کی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کے بارے میں تمام قیاس آرائیاں ختم ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے پہلی دفعہ 10 روپے عیدی ملی تھی، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر غیر ضروری طور پر ایک تاثر پیدا کیا جا رہا ہے اس لیے انہیں باہر آنا چاہیے تاکہ سب کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے اور یہ بحث بھی ختم ہو جائے۔
خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جب چاہیں رہا ہو سکتے ہیں وہ حقائق کے برعکس بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان خود رہائی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی جیل کاٹ چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق جب کسی قیدی کو قانونی طور پر رہائی کا موقع ملتا ہے تو وہ فوری طور پر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت رہائی کا کوئی موقع میسر نہیں آ رہا۔ عمران خان جیل میں نسبتاً بہتر سہولیات کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں جہاں ان کے لیے متعدد بیرکس مختص ہیں جن میں ورزش اور چہل قدمی کی سہولت بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی ہے، لیکن اب ہمیں معاشی جنگ جیتنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔
عمران نذیر نے کہاکہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا نام پاکستان ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے بھی وفاق کے پاس تھے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صوبوں میں یہ محکمے موجود نہیں تھے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب سے ہمیشہ قربانی مانگی جاتی ہے، ہمارا این ایف سی شیئر 58 فیصد بنتا ہے، لیکن ہمیں 51 فیصد ملا۔
انہوں نے کہاکہ دیگر صوبے آبادی کم کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں تاکہ این ایف سی شیئر بڑھ جائے، لیکن اگر آبادی رکے گی نہیں تو اس کا نقصان پاکستان کو ہونا ہے۔
وزیر صحت پنجاب نے کہاکہ بحیثیت سیاسی کارکن مجھے عمران خان سمیت ہر سیاسی کارکن کی قید کا دکھ ہے، لیکن سیاسی کارکنوں کو بھی ریڈلائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہاکہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان صرف سیاسی قیدی ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس اور فارن فنڈنگ کیس ایک حقیقت ہے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیل میں سہولیات میسر ہیں، لیکن کبھی نواز شریف، شہباز شریف یا کسی اور نے یہ نہیں کہاکہ عمران خان میں تمہارا اے سی اتاروں گا۔ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں، پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔
مزید پڑھیے: عیدالاضحیٰ پر کامیاب صفائی آپریشن: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے خراجِ تحسین کی قرارداد
خواجہ عمران نذیر نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2006 میں ان کی ملاقات امریکا کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ہوئی تھی اور اس وقت امریکا پاکستان کے شمالی علاقوں میں غریب افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک پروگرام شروع کر رہا تھا۔
وزیر صحت نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران کونڈولیزا رائس سے کہا کہ پاکستان میں منصوبے شروع کرنے کے بجائے امریکا کو پہلے اپنے ملک میں غربت اور بے گھری کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ وہاں بھی بڑی تعداد میں ضرورت مند افراد موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس تبصرے پر کونڈولیزا رائس نے ناراضی کا اظہار کیا اور ان کی شکایت امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) سے کر دی جس کے بعد انہیں تقریباً 2،3 سال مختلف سرکاری تقریبات اور پروگراموں میں مدعو نہیں کیا گیا۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بعض اوقات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر حقائق کے برعکس خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے متعلق سامنے آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں تاہم الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔
ان کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی اور طبی معائنے کے دوران تمام مقررہ طبی ضابطوں اور پروٹوکولز پر عمل کیا گیا تھا۔ مریض کی بیماری اور علامات کے مطابق ہی اس کا معائنہ اور علاج کیا جاتا ہے اس لیے ایسے معاملات کو بلاجواز غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔
مزید پڑھیں: ستھرا پنجاب اور سیف سٹی کا کامیاب آپریشن، ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کلیکشن
خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق ان سے بھی بہتر کام کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی توجہ کے باعث صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے منصب سنبھالنے سے قبل تقریباً 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجریاں التوا کا شکار تھیں تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہزار رہ گئی ہے۔
ان کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 14 ہزار بچوں کی کامیاب دل کی سرجریاں کی جا چکی ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے۔ اب پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں دل کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اسٹنٹ ڈالنے کی سہولت بھی ہر ضلع تک توسیع دی جا رہی ہے۔
خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات، بشمول ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں، فراہم کی جا چکی ہیں جس سے عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں واضح بہتری آئی ہے تاہم تنقید کرنا بعض لوگوں کا کام ہے اور وہ اپنی رائے دیتے رہیں گے۔
خواجہ عمران نذیر نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2014 میں صحت کارڈ پروگرام شروع کیا تھا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا کامیاب آپریشن، عید کے روز بھی سرکاری امور کی نگرانی جاری
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیر اطلاعات شفیع جان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ صحت کارڈ کا آغاز سنہ 2014 میں تحریک انصاف نے کیا تھا۔ ان کے بقول صحت کارڈ پروگرام کی بنیاد سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھی تھی اور اسی دور میں اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔
خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کا اصل کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جاتا ہے۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ کلینک آن ویلز منصوبے کے ذریعے اب تک تقریباً ڈھائی کروڑ مریضوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان کے بقول حکومت صحت کے شعبے میں مسلسل کام کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بعض حلقے بلاجواز تنقید اور الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوامی خدمت کے باوجود کبھی کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی منصوبوں پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جس سے انہیں اور ان کی ٹیم کو دکھ پہنچتا ہے۔
خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالتوں یا اداروں سے رجوع کرے تاہم بغیر ثبوت الزامات اور بہتان تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے سے قبل چند قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی جن میں سینیٹر پرویز رشید اور وہ خود بھی شامل تھے۔ ان کے بقول اس وقت وہ مسلم لیگ (ن) لاہور کے سیکریٹری جنرل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے اور انہوں نے مریم نواز کو سیاسی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب سے کھل کر بات کرنے کی آزادی حاصل ہے اور شاید کابینہ میں کسی اور وزیر کو اتنی گنجائش میسر نہیں جتنی انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعض اوقات سخت اور دوٹوک انداز میں بھی اپنی رائے پیش کرتے ہیں تاہم مریم نواز ان کی بات تحمل سے سنتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی بھی وزیر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار موجود ہے لیکن مریم نواز تنقید اور مختلف آرا سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز انتظامی معاملات میں سخت مزاج بھی ہیں تاہم اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور شفقت سے پیش آتی ہیں۔
مزید پڑھیں: مریم نواز کو ہتک عزت بل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ مریم نواز خود کو ’عقلِ کل‘ نہیں سمجھتیں بلکہ مشاورت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی دانست میں بہترین فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صحت کارڈ صحت کارڈ منصوبہ عمران خان عمران خان کی مقبولیت نواز شریف وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف