data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران:ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کے حالیہ فوجی حملے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس جارحیت کا جائز اور طاقتور جواب دے گا جس سے دشمن کو اپنے احمقانہ اقدام پر پشیمان ہو جائے گا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق صدر ایران نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی قیادت پر اعتماد رکھیں اور ان کے ساتھ کھڑے رہیں،ایرانی عوام اور حکام اس مجرمانہ اقدام پر ہرگز خاموش نہیں رہیں گے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کی زیر صدارت ایک غیر معمولی کابینہ اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں حملے کے بعد کی صورتحال اور ایران کی ممکنہ جوابی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے جمعہ کی علی الصبح ایران پر بیک وقت متعدد فضائی حملے کیے، جنہیں “پیشگی دفاعی کارروائی” قرار دیا گیا، ان حملوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام سے منسلک اہم تنصیبات، فوجی اڈے، اور بعض اعلیٰ کمانڈرز و ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ سپریم لیڈر آیت علی خامنہ ای نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ “اسرائیل کو سنگین سزا کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ اور پاسدارانِ انقلاب کے ترجمانوں نے بھی اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی