اسرائیلی حملوں میں ایران کے کونسے سائنسدان شہید ہوئے؟ نام سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسرائیلی حملوں میں ایران کے کونسے سائنسدان شہید ہوئے؟ نام سامنے آگئے WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
تہران: ایرانی سرکاری میڈیا نے اسرائیلی حملوں میں 6 جوہری سائنسدانوں کی شہادت کی تصدیق کردی ۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی جوہری تنصیات پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 6 سائنسدان شہید ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملے میں جوہری سائنسدان احمد رضا ذوالفقاری، آزاد یونیورسٹی کے سربراہ اور جوہری سائنسدان محمد مہدی تہرانچی بھی شہید ہوئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں جوہری ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر فریدون عباسی اور عبدالحمید منوچہر بھی شہید ہوئے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی حملوں میں شہید سائنسدانوں میں سید امیرحسین فقیہی اور مطّلبیزادہ بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کردیا ہے، اسرائیل کی فضائی حملوں میں جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایرانی مسلح افواج کےسربراہ اور پاسداران انقلاب کے سربراہ سمیت کئی کمانڈرز شہید ہوگئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربرطانوی کرائم ایجنسی نے شیخ حسینہ واجد کے ساتھی کے اثاثے منجمد کر دیے برطانوی کرائم ایجنسی نے شیخ حسینہ واجد کے ساتھی کے اثاثے منجمد کر دیے انٹرنیشنل اٹامک ایجنسی نے نطنز میں ایرانی جوہری تنصیب پر اسرائیلی حملے کی تصدیق کردی سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کی ایران پر ’اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، ایرانی حملوں پر دفاع کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ ایران کا بھرپور جوابی وار، اسرائیل پر 100 سے زائد ڈرونز سے حملہ پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز پر اسرائیلی حملے میں میجر جنرل محمد باقری شہید، مغربی میڈیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملوں میں میں ایران شہید ہوئے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔