UrduPoint:
2026-07-24@07:50:58 GMT

اسرائیل کے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر حملے

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

اسرائیل کے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر حملے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 13 جون 2025ء) اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے بھی ایران پر حملوں کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تنبیہ کے بعد سامنے آئی ہے کہ اسرائیل جلد ہی ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسرائیل نے جمعہ کی علی الصبح ایران کے دارالحکومت پر حملہ کیا، جس کے بعد تہران بھر میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایران کی اہم جوہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے یہ حملے 'آپریشن رائزنگ لائن' کا حصہ ہیں۔

مشرق وسطیٰ سے امریکی سفارتی عملے کے انخلا کی وجوہات کیا؟

تازہ حملوں کی اطلاعات

جمعے کی اولین ساعتوں میں ایران پر اسرائیل کے پہلے حملوں کے بعد پھر سے فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں اور تہران کے متعدد علاقوں سے دھماکوں کی آوازیں دوبارہ سنی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے حملے سے متعلق ایکس پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے، "برسوں سے، ایرانی حکومت نے اسرائیل کی ریاست کو تباہ کرنےکے لیے ٹھوس فوجی منصوبہ بندی کی اور اس منصوبے کو آگے بڑھانے کا کام بھی کیا۔"

آئی ڈی ایف کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے کہا "گزشتہ چند مہینوں کے دوران، انٹیلیجنس رپورٹ سے پتہ چلا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔

"

ایران پر حملے کا اسرائیلی پلان: سابق سی آئی اے اہلکار کا خفیہ دستاویزات لیک کرنے کا اعتراف

ترجمان نے مزید کہا، "آج صبح، آئی ڈی ایف نے ایرانی جوہری پروگرام کو نشانہ بناتے ہوئے محتاط اور درست حملے شروع کیے تاکہ ایرانی حکومت کی فوری طور پر جوہری بم بنانے کی صلاحیت کو ختم کیا جا سکے۔"

بیان میں مزید کہا گیا، "ہم ایک فوری خطرے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

ہم ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، جو اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے خطرہ ہو۔" پاسداران انقلاب کے کمانڈر کی ہلاکت کا خدشہ

جمعے کی صبح آنے والی خبروں کے مطابق ایران کے نیم فوجی دستے پاسداران انقلاب کے کمانڈر حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے کہا کہ کمانڈر حسین سلامی کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

پاسداران انقلاب ایران کی سب سے طاقتور فوجی دستوں میں سے ایک ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب کے ایک اعلیٰ اہلکار کے ساتھ ساتھ دو جوہری سائنسدانوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

اسرائیل پر حملہ کرنے والے کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، نیتن یاہو

گزشتہ روز ہی حسین سلامی نے خبردار کیا تھا کہ کسی بھی اسرائیلی جارحیت کے لیے ایران کا جواب ماضی کے مقابلے میں "زیادہ طاقتور اور تباہ کن" ہو گا۔

اس دوران تہران کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے ہوائی اڈے کے شعبہ تعلقات عامہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ملک کے مرکزی ہوائی اڈے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی ہیں۔

ایران کا رد عمل

ایران کی وزارت خارجہ نے دنیا بھر کے ممالک سے اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ "عالمی سلامتی کو بے مثال خطرے سے دوچار کرتا ہے۔

"

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ، جسے وہ اسرائیل کا اہم حامی کہتا ہے، کو اس حملے کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ جبکہ امریکہ نے پہلے کہا تھا کہ وہ اس حملے میں ملوث نہیں ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسرائیل کی "فطرت" کو ظاہر کرتے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ان حملوں کی "بھاری قیمت" چکانی پڑے گی۔

ایرانی ترجمان ابوالفضل شکرچی نے کہا کہ مسلح افواج یقینی طور پر اس حملے کا جواب دیں گی۔

ایران کی طرف سے اسرائیلی حملے کا ’سخت جواب‘ دینے کے عزم کا اعادہ

ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ حملوں سے تہران کے رہائشی علاقے متاثر ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں، جن میں بچے بھی ہیں، حالانکہ اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ایران کی جانب سے جوابی حملے کا امکان

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد ایران کی جانب سے بڑی جوابی کارروائی کی توقع ہے، جس کے لیے وہ تیاری کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی شہریوں پر زور دیا کہ وہ فوج کی ہدایات پر عمل کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہریوں کو طویل مدت تک پناہ گاہوں میں رہنا پڑ سکتا ہے۔

نیتن یاہو نے ایران پر حملوں کو "بہت کامیاب" قرار دیا، تاہم اسرائیل اب ایران کی جانب سے جوابی حملوں کی توقع میں ہنگامی حالت کی صورت میں ہے۔

امریکہ نے کیا کہا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کے ساتھ ان حملوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے منصوبوں سے پہلے ہی آگاہ تھے، تاہم امریکی فوج نے آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انہیں امید ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔

انہوں کہا، "ایران کے پاس جوہری بم نہیں ہو سکتا اور ہم مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی امید کر رہے ہیں۔ ہم دیکھیں گے۔"

انہوں نے کہا کہ ایرانی "قیادت میں بہت سے لوگ ہیں، جو واپس نہیں آئیں گے۔

" امریکہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملے میں متعدد ایرانی رہنما ہلاک ہوئے ہیں۔

ایرانی حکام طے کریں اسرائیل کو کیسے جواب دیا جائے، خامنہ ای

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے حملے سے پہلے مشرق وسطیٰ کے اپنے ایک اہم اتحادی سے رابطہ کیا تھا تاکہ انہیں بھی آگاہ کیا جا سکے، تاہم ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کون سا خلیجی ملک ہے۔

اقوام متحدہ نے حملوں کی مذمت کی

اقوام متحدہ کے سربراہ نے مشرق وسطیٰ میں "زیادہ سے زیادہ تحمل" برتنے کا مطالبہ کیا ہے اور ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ، "خاص طور پر ایران میں جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں سے پریشان ہیں جب کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت جاری ہے۔

"

ترجمان کا کہنا تھا کہ "سکریٹری جنرل دونوں فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں کہ ہر قیمت پر ایسے گہرے تنازعے کی طرف جانے اور ایسی صورت حال سے گریز کریں، جس کا خطہ شاید ہی متحمل ہو سکے۔"

ادارت: جاوید اختر، عدنان اسحاق

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاسداران انقلاب ایران کے سرکاری کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اسرائیل کا کی جانب سے ہوائی اڈے نے کہا کہ ایران کی ایران پر ان حملوں کہ ایران مزید کہا حملوں کی حملے کا کے بعد کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی