اسرائیلی حملوں میں شہید ہونیوالے ڈاکٹر فریدون عباسی کون تھے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
حالیہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونیوالے ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی ایران کے اُن ممتاز ایٹمی سائنسدانوں میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف سائنسی میدان میں اہم خدمات انجام دیں بلکہ ملکی دفاعی ڈھانچے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
11 جولائی 1958 کو ایران کے شہر آبادان میں پیدا ہونے والے فریدون عباسی نے شہید بہشتی یونیورسٹی سے نیوکلیئر فزکس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ نہ صرف ایک ماہرِ طبیعات تھے بلکہ پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ برگیڈیئر جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔
ڈاکٹر فریدون عباسی کی علمی زندگی تدریس و تحقیق سے عبارت تھی، اور وہ امام حسین یونیورسٹی اور ایک عرصے تک شہید بہشتی یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر کے طور پر تدریسی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی کا سب سے نمایاں دور وہ تھا جب وہ ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ مقرر ہوئے، 2011 سے 2013 تک اس ادارے کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ان پر اقوام متحدہ اور مغربی انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا رہا کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں اُس پہلو سے وابستہ تھے جسے ’ملٹری ڈائمینشن‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوجی استعمال میں شامل سمجھے جاتے تھے، اسی تناظر میں ان کیخلاف 2007 میں اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔
ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی کی زندگی خطرات سے عبارت رہی، نومبر 2010 میں اُن پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا، جب تہران میں ان کی گاڑی کے نیچے مقناطیسی بم نصب کیا گیا، تاہم وہ اس حملے میں زخمی ہونے کے باوجود بچ گئے۔
مزید پڑھیں:
مذکورہ قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کا الزام اسرائیلی خفیہ ادارے موساد پر لگایا گیا، جو اس وقت ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی کوششوں میں سرگرم تھا۔
تحقیق و تدریس کے شعبے میں بھی ان کا اثرورسوخ غیرمعمولی تھا۔ انہوں نے نیوکلیئر فزکس، پلازما ٹیکنالوجی اور ریڈی ایشن ایپلی کیشنز جیسے اہم موضوعات پر 100 سے زائد تحقیقی مقالے شائع کیے، جنہیں بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ وہ شہید بہشتی یونیورسٹی کے اپلائیڈ ریڈی ایشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے بھی وابستہ رہے۔
ایرانی قوم کے لیے ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی کی زندگی علم، خدمت اور قومی خودمختاری کے تصور سے جڑی ہوئی تھی، جمعے کو اسرائیلی فضائی حملوں میں ان کی شہادت ایران کے جوہری پروگرام کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی موساد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی ایران کے
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔