حالیہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونیوالے ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی ایران کے اُن ممتاز ایٹمی سائنسدانوں میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف سائنسی میدان میں اہم خدمات انجام دیں بلکہ ملکی دفاعی ڈھانچے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

11 جولائی 1958 کو ایران کے شہر آبادان میں پیدا ہونے والے فریدون عباسی نے شہید بہشتی یونیورسٹی سے نیوکلیئر فزکس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ نہ صرف ایک ماہرِ طبیعات تھے بلکہ پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ برگیڈیئر جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔

ڈاکٹر فریدون عباسی کی علمی زندگی تدریس و تحقیق سے عبارت تھی، اور وہ امام حسین یونیورسٹی اور ایک عرصے تک شہید بہشتی یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر کے طور پر تدریسی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی کا سب سے نمایاں دور وہ تھا جب وہ ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم  کے سربراہ مقرر ہوئے، 2011 سے 2013 تک اس ادارے کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

ان پر اقوام متحدہ اور مغربی انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا رہا کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں اُس پہلو سے وابستہ تھے جسے ’ملٹری ڈائمینشن‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوجی استعمال میں شامل سمجھے جاتے تھے، اسی تناظر میں ان کیخلاف 2007 میں اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔

ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی کی زندگی خطرات سے عبارت رہی، نومبر 2010 میں اُن پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا، جب تہران میں ان کی گاڑی کے نیچے مقناطیسی بم نصب کیا گیا، تاہم وہ اس حملے میں زخمی ہونے کے باوجود بچ گئے۔

مزید پڑھیں:

مذکورہ قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کا الزام اسرائیلی خفیہ ادارے موساد پر لگایا گیا، جو اس وقت ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی کوششوں میں سرگرم تھا۔

تحقیق و تدریس کے شعبے میں بھی ان کا اثرورسوخ غیرمعمولی تھا۔ انہوں نے نیوکلیئر فزکس، پلازما ٹیکنالوجی اور ریڈی ایشن ایپلی کیشنز جیسے اہم موضوعات پر 100 سے زائد تحقیقی مقالے شائع کیے، جنہیں بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ وہ شہید بہشتی یونیورسٹی کے اپلائیڈ ریڈی ایشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے بھی وابستہ رہے۔

ایرانی قوم کے لیے ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی کی زندگی علم، خدمت اور قومی خودمختاری کے تصور سے جڑی ہوئی تھی، جمعے کو  اسرائیلی فضائی حملوں میں ان کی شہادت ایران کے جوہری پروگرام کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی موساد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی ایران کے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان