Jasarat News:
2026-07-24@03:34:29 GMT

ماڈلین کا پیغام اہل غزہ تنہا نہیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈاکٹر آلاء النجار صبر و استقامت اور عزم و حوصلے کی نشان ہیں۔ کوئی اتنا بھی صابر ہوسکتا ہے؟ یقینا ایمان کے اعلیٰ ترین درجے ہی میں ایسا صبر پیدا ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر آلاء جو بچوں کی ماہر ڈاکٹر ہیں اُن کے شوہر بھی ڈاکٹر تھے۔ اسرائیلی بمباری میں ڈاکٹر آلاء نے اپنے 9 بچے گنوادیے، اُن کا ایک بچہ اور شوہر شدید زخمی ہوئے۔ اُس وقت ڈاکٹر آلاء اسپتال میں ڈیوٹی پر تھیں۔ اُن کے شوہر گھر پر بچوں کے ساتھ تھے۔ اب وہ بھی زخموں کی تاب نہ لا کر اپنے بچوں کے پاس چلے گئے۔ ڈاکٹر آلاء کے 9 بچوں کی عمریں 6 ماہ سے 12 سال کے درمیان تھیں۔ ایک بیٹا آدم جس کی عمر 12 سال تھی وہ شدید زخمی ہے۔ اُن کی بہن سحر النجار بتاتی ہیں کہ ’’میں نے چلا کر آلاء سے کہا کہ بچے چلے گئے۔ اُس نے پرسکون انداز میں جواب دیا وہ اپنے ربّ کے پاس زندہ ہیں رزق پارہے ہیں‘‘۔
سحر النجاء کا کہنا تھا کہ آلاء اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ انہیں ڈر ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ڈاکٹر آلاء ٹوٹ جائیں گی۔ ابھی تو وہ بہت ثابت قدمی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ جس وقت انہیں اپنے بچوں کی ہلاکت کی خبر ملی اس وقت وہ ناصر میڈیکل کمپلیکس میں دوسرے بچوں کی جانیں بچانے کی کوشش میں مصروف تھیں ان کی بہن سحر کہتی ہیں کہ ہم جانتے ہیں اس دنیا میں کوئی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں لیکن ایک ساتھ میں 9 بچوں کو کھو دینا جو کچھ ہی لمحے پہلے آپ کے اردگرد بھاگ رہے تھے کھیل رہے تھے ایک بہت بڑا المیہ ہے وہ بھی اس ماں کے لیے۔ وہ ماں جو دوسروں کے جگر گوشوں کو بچاتی رہی، وہ ماں اپنے 9 جگر گوشوں کی راکھ سمیٹ رہی تھی۔ 9 میں سے صرف ایک بچے کی لاش پہچان میں تھی۔ باقی سب ٹکڑوں میں راکھ بن چکے تھے۔ یہ صہیونی نیتن یاہو اور اس کے ساتھی افواج سفاک قاتل ہیں بلکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قاتل درندے ہیں دنیا کے سارے خود کو روشن خیال اور متمدن کہلانے والے ممالک اس کے ہشت پناہ ہیں۔ ہر روز لاکھوں اربوں کے ہتھیار اور گولہ بارود اسرائیل کو فراہم کررہے ہیں کہ مارو غزہ کو جلائو اور راکھ بنائو۔
امریکی پارلیمنٹ کے رکن رینڈی وائن مطالبہ کررہے ہیں کہ غزہ کی پٹی پر اسی طرح جوہری حملہ کیا جائے جیسا کہ دوسری عالمی جنگ میں امریکا نے جاپان کے شہروں پر کیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں ہم نے نہ نازیوں سے اور نہ جاپانیوں سے مذاکرات کیے بلکہ ہم نے جاپان پر دو بار جوہری بم گرا کر ان کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ یہاں بھی یہی طریقہ اپنانا چاہیے۔ یعنی سفاکیت کی ہر حد پار تو کرچکے ہیں پھر مزید تباہی کی تمنا دل میں مچل رہی ہے۔
دوسری طرف اسی امریکا کا ایک سیکورٹی اور انٹیلی جنس امور کا ماہر کوبی بی کلارک کا کہنا ہے کہ حماس کو فوجی حملوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل خطے کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنارہا ہے۔ اور حالات کو مسلسل کشیدگی کی طرف لے جارہا ہے۔ اسرائیل واحد حل کے طور پر فوجی طاقت پر انحصار کررہا ہے۔ اس کے پاس جامع سیاسی حکمت عملی کا فقدان ہے۔ جس سے کشیدگی جاری رہنے کا خطرہ ہے۔ سفاک اسرائیلی غزہ میں نسل کشی کررہے ہیں، معصوم بچے جن کے چہرے مسکراہٹوں سے آباد تھے اب راکھ اور ملبے تلے سسک رہے ہیں، ان کھنڈرات میں اب ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جس کے پاس کھونے کے لیے اب کچھ باقی نہیں ہے جن کے بچپن بربادی محرومی اور جدائی کے تلے کرب کی کہانی سنا رہے ہیں۔
فلسطین کے یتیم بچوں کی تعداد 40 ہزار تک پہنچ چکی ہے ان میں سے 700 بچے ایسے ہیں جن کے پورے خاندان شہید ہوچکے ہیں اور اب وہ محض ’’زندہ بچ جانے والے‘‘ کہلاتے ہیں۔ پناہ گاہیں جہاں ان بچوں کو سہارا ملتا تھا صہیونی قاتلوں نے انہیں بھی نہ چھوڑا اب وہ بھی ان بچوں کو بھوک، گرمی اور راتوں کے ڈرائونے خوابوں سے بچانے کے قابل نہیں ہیں۔ وہاں موجود بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی ایک خاتون کہتی ہے کہ ہم ایسے بچوں کو سنبھال رہے ہیں جو نہ ہنسنا جانتے ہیں، نہ خواب دیکھنا۔ ایک بچے نے کہا ’’کاش میں مر جاتا ماں نہ مرتی‘‘۔ انہیں ان کی مائوں کے بارے میں اطمینان دلانے والا بھی کوئی ہوگا؟ کہ وہ جنت میں ہیں۔ اِدھر آلاء جیسی مائیں بھی ہیں جو 9 بچوں کو ایک ساتھ کھونے کے بعد بے اختیار پکار اُٹھی ہیں وہ اپنے ربّ کے پاس زندہ اور رزق پا رہے ہیں۔
غزہ کی نسل کشی کے لیے نیتن یاہو اور اس کے پشت پناہ ہر طرح کے ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں، بچوں کے ساتھ یہ سلوک دراصل پوری فلسطینی نسل کے ذہن، یادداشت اور روح کو مٹانے کا عمل ہے۔ دوسری طرف پوری دنیا خاموش اور بے بسی کی تصویر بنی ہے۔ وہ کیسے انسانی حقوق کا نام لیتے ہیں۔ غزہ میں ہر طرح کے انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے قوانین کی پامالی ہورہی ہے، حقوق اطفال کنونشن کی خلاف ورزی ہورہی ہے، قابض صہیونی اسرائیل پورے خاندان کو بمباری کرکے ختم کررہا ہے، بچوں کو بھوک، بیماری اور تنہائی میں دھکیل رہا ہے، قحط کی انتہا صورت حال پیدا کررہا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے بغور اور احتیاط سے… کوئی کس طرح وہاں امداد نہ پہنچا سکے، خشکی کے راستے بند اور بحری راستوں پر نگرانی۔ اقوام متحدہ میں جنگ بندی قرارداد کے لیے ویٹو کا پانچویں دفعہ استعمال کیا گیا، یہ ہیں امن اور انسانی حقوق کا پیامبر امریکا اور ناٹو ممالک۔
دوسری طرف پوری دنیا کے لیے ہمت اور مزاحمت کی مثال غزہ کے عوام جو غزہ کے ساحل پر سمندری محاصرے کو چیلنج کرنے والے لوگوں اور امدادی جہاز ماڈلین سے اظہار یکجہتی کے لیے جمع تھے، یہ غزہ کے بے بس مگر باہمت عوام کا پُرجوش اجتماع تھا جنہوں نے ہر طرح کے مظالم کے باوجود دشمن کے ظلم کے آگے جھکنے سے انکار کیا۔ جو گزشتہ 18 سال سے قابض اسرائیل کے محاصرے میں گھٹی ہوئی سانس لے رہا تھا۔ اکتوبر 2023ء کے بعد تو ان سانسوں کو بھی جرم بنادیا گیا ہے، لیکن اس سب کے باوجود ’’ماڈلین‘‘ کے لیے شکریہ اور محبت کے اظہار کے لیے تقریب سجائی گئی۔ غزہ کے ساحل میں غزہ کا کہنا تھا کہ یہ غزہ کے لوگوں کے لیے اُمید کی ایک روشن کرن تھا۔ جس کو اسرائیلی افواج نے اغوا کرلیا، لیکن جس نے اہل غزہ کو یہ پیغام دیا کہ دنیا کا ضمیر ابھی مرا نہیں اور غزہ اور اہل غزہ تنہا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کررہے ہیں کے ساتھ کا کہنا بچوں کو رہے ہیں بچوں کی کے پاس ہیں کہ کے لیے رہی ہے غزہ کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف