اسرائیل کے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے، پاسداران انقلاب کے سربراہ سمیت کئی اہم شخصیات ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
جمعہ کی صبح اسرائیل نے ایران پر ایک بڑے اور غیر معمولی فضائی حملے کا آغاز کیا، جسے اسرائیلی حکام نے “آپریشن رائزنگ لائن” کا نام دیا ہے۔ اس کارروائی میں اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں طیاروں نے ایران کے ایٹمی اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جن میں نطنز کی ایٹمی تنصیبات اور بیلسٹک میزائلوں سے متعلق مراکز شامل تھے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے سپریم کمانڈر جنرل حسین سلمیٰ سمیت کئی اعلیٰ فوجی اور ایٹمی سائنسدان ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران بھر میں مختلف مقامات پر زوردار دھماکوں اور آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ متعدد شہروں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس کارروائی کو “اسرائیل کے وجود کی بقا کے لیے ایک تاریخی اور فیصلہ کن اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آپریشن اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران کی جانب سے لاحق خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔
دوسری جانب، ایران نے اسرائیلی حملے کے ردعمل میں “فیصلہ کن جوابی کارروائی” کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی مکمل صلاحیت موجود ہے، اور اس حملے کا بھرپور بدلہ لیا جائے گا۔
عالمی سطح پر اس حملے کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے گئے۔ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اس حملے میں براہِ راست کسی مداخلت سے انکار کیا ہے، تاہم صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایران کے اہم ہوائی اڈوں پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں اور ریاستی نشریاتی ادارے نے اپنے لوگو پر سیاہ پٹی لگا دی ہے، جو ہنگامی حالات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قریبی شیلٹرز کے قریب رہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مشرق وسطیٰ میں ایک نئے اور خطرناک مرحلے کا آغاز ہو سکتی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔