عالم اسلام کے اتحاد کی ضرورت
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: عالم اسلام کے اتحاد کی ضرورت
مہمان مقرر: ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان)
میزبان و پیشکش: سید انجم رضا
سوالات و موضوعات
1۔ اس وقت دشمن کھل کر عالم اسلام کے سامنے آ چکا ہے، فلسطین پھر ایران اور اب پاکستان کی بات ہو رہی ہے؟ ایسے میں عالم اسلام میں اتحاد کیونکر ضروری ہے اور اس کی عملی شکل کیا ہو سکتی ہے؟
2۔ جمہوری اسلامی ایران کے رہبرِ انقلاب نے افغانستان سے یمن تک اسلامی دفاعی کوریڈور کی بات کی تھی کیا اب اس کی ضرورت واضح نہیں ہو گی ، اس منصوبے کو کیسے عملی جامہ
پہنایا جا سکتا ہے ؟
3 ۔ پورے عالم اسلام میں اہم شخصیات اور بڑی بڑی جماعتیں موجود ہیں، ان موضوعات پر ان کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
4۔ اب پاکستان میں بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں سنائی دے رہی ہیں؛ یہ کون لوگ ہیں اور ان کے کیا اہداف ہیں؟
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
اتحاد کا حکم تو اللہ کی اتباع ہے، قرآن مجید میں کئی بار اتحاد کے لئے حکم دیا گیا
وَ اعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۪ میں جب جَمِیْعًا کہہ دیا گیا توسب اکٹھے مراد ہیں
اور ساتھ تنبیہ بھی گئی کہ " آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی
امت مسلمہ کےمتحد نہ ہونے کی بنا پہ اسرائیل گزشتہ دو برس سے غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے
ایران، یمن، ح ز ب اور ح م ا س تو اس کے باوجود بھی مزاحمت کررہے ہیں
غ ز ہ ، لبنان اور ایران میں کی ٹاپ کی لیڈر شپ تک شہید ہوئی مگر مزاحمت جاری ہے
انسان دوست غیر مسلم دنیا بھی صیہونی ظلم و ستم کے خلاف بات کررہی ہے
فرانس، سپین، جرمنی سار ایورپ حتی کہ امریکہ میں غ ز ہ کی حمایت میں آواز اٹھائی جارہی ہے
مسلمان حکمرانوں کی خامشی اور مجرمانہ چُپ اسلا م و مسلمان دشمن قوتوں کو شہ دے رہی ہے
جمہوری اسلامی ایران کی اسرائیل کے مقابلے میں استقامت قابلَ تحسین ہے
جمہوری اسلامی ایران کے شاندار کردار کو دیکھ کر اہلِ ایمان کو متحد ہونا چاہیئے
امریکہ اور اسرائیل کے عزائم اسلام و مسلمان دُشمنی ہیں
رہبر معظم کی تجویز کے مطابق افغانستان سےیمن تک اسلامی دفاعی کوریڈور بنانا بہت ضروری ہے
امریکہ یورپ اور اسرائیل کی نظر مسلمانوں کے معدنی وسائل پہ بھی حریصانہ نظر ہے
ایٹمی تنصیبات پہ حملے کھلی جارحیت ہے
اب مسلم دنیا کو مغربی دُنیا سےخریداری کی طرفہ تجارت کو بھی چھوڑنی چاہیئے
پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کرنے والے چھچھورے لوگ ہیں
اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے بارے میں قائداعظم نے بڑی واضح پالیسی دے تھی
پاکستان کے لئے اسرائیل ایک ناجائز اور غاصب ریاست ہے
فلسطین کشمیر کی آزادی پاکستان کا آئینی موقف ہے
ابراہیمی معاہدہ کے نام پہ اسرائیل کو تسلیم کرنے باتیں کرنا دھوکہ دہی ہے
کرہ ارض پہ خیر کی امت صرف امت محمدیہ ہے، باقی سب پہ اللہ کا غضب نازل ہوا
یہودیت و نصرانیت قرآنی حکم کے مطابق تحریف شدہ دین ہیں
ابراہیمی معاہدہ کے نام پہ غضب نازل ہونے والی قوموں سے دوستی قرآن کے حکم سے روگردانی ہے
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کو تسلیم عالم اسلام
پڑھیں:
حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔
انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔
@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachiانہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟
اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔
مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم