شدید گرمی میں افغان ٹیکسی ڈرائیوروں کا انوکھا حل، خود ساختہ اے سی سسٹم نصب
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قندھار :افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں شدید گرمی کے ستائے ہوئے ٹیکسی ڈرائیوروں نے ایئر کنڈیشننگ (اے سی) نہ ہونے یا ناقص سسٹمز کے باعث ایک انوکھا اور کم لاگت حل ڈھونڈ نکالا ہے،گاڑیوں کی چھتوں پر دیسی انداز میں تیار کیے گئے کولر نصب کر دیے گئے ہیں جو ٹھنڈی ہوا کو ایک پائپ کے ذریعے گاڑی کے اندر پہنچاتے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق قندھار میں موسم گرما کے دوران درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ (104°F) سے تجاوز کر جاتا ہے اور زیادہ تر پرانی گاڑیوں کے اے سی سسٹم یا تو ناکارہ ہو چکے ہیں یا ان کی مرمت انتہائی مہنگی ہو چکی ہے۔
32 سالہ ٹیکسی ڈرائیور گل محمد نے بتایا کہ یہ مسئلہ تقریباً تین چار سال پہلے سنگین ہونے لگا، جب گرمی ناقابل برداشت ہو گئی،گاڑی کے اے سی نے کام کرنا چھوڑ دیا، مرمت کا خرچ برداشت سے باہر تھا، اس لیے میں نے ایک مقامی کاریگر سے رابطہ کیا اور اپنی ضرورت کے مطابق ایک خصوصی کولر تیار کرایا۔
گل محمد نے یہ سسٹم 3,000 افغانی (تقریباً 43 امریکی ڈالر) میں تیار کرایا جو گاڑی کی بیٹری سے منسلک ہوتا ہے اور باقاعدگی سے پانی سے بھرا جاتا ہے تاکہ مسلسل ٹھنڈی ہوا فراہم کر سکے۔
عبدالباری نامی ایک اور ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ یہ خودساختہ کولر اصل گاڑی کے اے سی سے بھی زیادہ مؤثر ہے،گاڑی کا اے سی صرف اگلی نشستوں کو ٹھنڈا کرتا ہے، لیکن یہ کولر ساری گاڑی میں ہوا پھیلاتا ہے۔
کچھ ڈرائیوروں نے کولر کے ساتھ سولر پینل بھی چھت پر نصب کیے ہیں تاکہ اضافی بجلی کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔
21 سالہ تکنیکی ماہر مرتضیٰ جو قندھار کے مرکزی بازار میں اپنی چھوٹی دکان چلاتے ہیں، انہوں کہا کہ گزشتہ دو تین سالوں سے ٹیکسی ڈرائیوروں کی جانب سے اس قسم کے کولر کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،زیادہ تر پرانی گاڑیوں میں تو اے سی پہلے سے ہی موجود نہیں تھا، اس لیے ہم یہ نیا حل فراہم کر رہے ہیں۔
یاد رہےکہ قندھار کی سڑکوں پر چلنے والی بیشتر گاڑیاں دوسرے ممالک سے منگوائی گئی پرانی گاڑیاں ہیں جو یہاں اپنی آخری عمر گزار رہی ہیں۔ ان میں سے اکثر کے کولنگ سسٹمز غیر فعال ہو چکے ہیں۔
خیا ل رہےکہ افغانستان جو دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں بھی شامل ہے، گرمی کی شدت اور طویل خشک سالی نے یہاں کے شہریوں کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
واضح رہے کہ افغان ٹیکسی ڈرائیوروں کا یہ خودساختہ لیکن مؤثر حل نہ صرف ان کے لیے روزگار کا ذریعہ محفوظ کر رہا ہے بلکہ مسافروں کو شدید گرمی سے کچھ راحت بھی فراہم کر رہا ہے، جو اس خطے میں ایک نایاب نعمت بن چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیکسی ڈرائیوروں
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔