حمیرا کے بعد کراچی سے ایک اور خاتون کی پرانی مسخ شدہ لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی میں اداکارہ حمیرا اصغر کی مہینوں پرانی لاش برآمد ہونے کے بعد ایک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ڈرم سے ایک نامعلوم خاتون کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ لاش تقریباً 25 دن پرانی ہے اور اس کی حالت انتہائی خراب اور مسخ شدہ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کو ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈرم میں بند کیا گیا تھا۔ ابتدائی معائنے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ خاتون کی عمر 30 سال کے لگ بھگ ہے۔ واقعے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان ایک گاڑی میں سوار ہو کر آئے اور ڈرم کو مین روڈ پر پھینک کر فرار ہو گئے۔
لاش کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ لاش سے شدید بدبو اٹھ رہی ہے۔ پولیس نے کیمیکل تجزیے کے لیے لاش کے نمونے حاصل کر لیے ہیں تاکہ موت کی وجہ اور وقت کا درست تعین کیا جا سکے۔
تاحال خاتون کی شناخت نہیں ہو سکی ہے، اور پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے اور گاڑی کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان تک پہنچا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک سنگین جرم کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کی خاتون رشتہ دار لاپتہ ہے تو وہ فوری طور پر متعلقہ تھانے سے رجوع کریں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خاتون کی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔