بلوچستان صوبائی کابینہ کا اجلاس، سکیورٹی و دیگر امور سے متعلق فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
صوبائی ترجمان کے مطابق اجلاس میں صوبے کی مجموعی ترقی، مؤثر حکمرانی، عوامی بہبود اور سکیورٹی سے متعلق متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ جس میں صوبے کی مجموعی ترقی، مؤثر حکمرانی، عوامی بہبود اور سکیورٹی سے متعلق متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے فیصلوں سے متعلق ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے پریس کانفرنس میں میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے صوبے کے کچھ علاقوں میں محکمہ صحت کے غیر فعال اسپتالوں کو پاک آرمی کی معاونت سے فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ شہریوں کو بنیادی طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔ کابینہ نے زرعی شعبے کی بہتری کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے کسانوں کو پچاس فیصد سبسڈی پر زرعی ٹریکٹر فراہم کرنے کی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں محکمہ زراعت کے ٹرینڈ کراپ رپورٹرز کو گریڈ 6 سے گریڈ 11 میں اپ گریڈ کرنے کی بھی توثیق کی گئی۔
اجلاس میں توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے کابینہ نے لسبیلہ اور حب میں 150 کلو واٹ کے سولر پروجیکٹس کے تکنیکی و مالی جائزے کے لیے سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری انرجی پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی۔ اجلاس میں بلوچستان منرل ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری دی گئی، جو معدنی وسائل کے شفاف استعمال اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے ساتھ بلوچستان کنٹری بیوشن پینشن اسکیم رولز 2025 کی منظوری دی گئی، تاکہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک منظم اور پائیدار پنشن نظام وضع کیا جا سکے اور آنے والے وقت میں بڑھتے ہوئے غیر ترقیاتی بجٹ کو روکا جا سکے۔ ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے کابینہ نے لیپ ٹاپ پالیسی کو مزید مؤثر اور بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح صوبے کے تمام محکموں بشمول محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
صوبائی کابینہ نے امن و امان کی بہتری کے لیے کوہلو میں دو نئے پولیس اسٹیشنز کے قیام، مانگی ڈیم کے لیے اضافی سکیورٹی، رکھنی اور بارکھان میں سی ٹی ڈی تھانوں کے قیام اور لورالائی و سبی میں سی ٹی ڈی حدود میں رد و بدل کی منظوری دے دی۔ اسلحہ لائسنس رولز میں ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے مفت استثنیٰ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، جبکہ وزراء، مشیران اور اراکین اسمبلی کی سکیورٹی کے لیے مربوط پالیسی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کی درخواست پر نجی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو لیز پر دی گئی 20 ایکڑ اراضی واپس لے لی گئی۔ خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹ آف ویمن کی چیئرپرسن کے طور پر کرن بلوچ کی تقرری کی منظوری دی گئی۔ تعلیم کے شعبے میں پیش رفت کے لیے مکران اور کیچ کے انٹرنیز اساتذہ کی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی گئی، جبکہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے مجوزہ رولز اور صحافیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق جرنلسٹس ویلفیئر ترمیمی رولز بھی منظور کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی منظوری دی گئی کابینہ نے کے لیے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز