وفاقی وزیر حنیف عباسی نے ریلوے میں اصلاحات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے نے گزشتہ مالی سال میں 93 ارب روپے کمائے ہیں جو اہم کامیابی ہے۔

لاہور میں منعقدہ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بزنس ایکسپریس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے تقریب سے تفصیلی خطاب کیا اور حکومت کی جانب سے ریلوے سمیت دیگر قومی معاملات میں کی گئی اصلاحات اور کامیابیوں کو اجاگر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی وجہ سے پاکستانی دنیا بھر میں سر اٹھا کر چل رہے ہیں، حنیف عباسی

حنیف عباسی نے کہا کہ جب پی ڈی ایم اتحاد نے اقتدار سنبھالا، تو سب سے بڑا چیلنج ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں فوری فیصلے کیے گئے جن کے نتیجے میں آج عالمی ادارے بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا۔ اُن کے مطابق مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر صفر کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ 10 آئی پی پیز بند کر دی گئی ہیں اور مزید 15 بند کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پہلگام واقعے کے بعد ہندوستان کی جانب سے پانی بند کرنے کی دھمکی کا جرات مندانہ جواب دیا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا، اور واضح اعلان کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ان کے بقول، وزیراعظم کی سفارتی حکمت عملی کے تحت نہ صرف بھارت دفاعی پوزیشن پر چلا گیا بلکہ جنگ کی صورت میں بھی کوئی ملک بھارت کے ساتھ کھڑا نہ ہوا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی مشترکہ قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر وقار حاصل کیا، ترکی، چین، روس، ملائیشیا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک نے پاکستان کا ساتھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر ریلوے کا 27 مارچ سے بلوچستان میں ٹرین سروس بحال کرنے کا اعلان

ریلوے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے بتایا کہ نظام میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ چند اسٹیشنز پر POS مشینز نصب کر دی گئی ہیں، جبکہ 348 اسٹیشنز پر ATM اور POS سہولیات جلد میسر ہوں گی۔ ریلوے کی ایمرجنسی سروس 117 اب ہفتے کے 7 دن، 24 گھنٹے فعال ہوگی، اور “پاک ریل ایپ” کے ذریعے مسافر ٹرینوں کے شیڈول اور ٹکٹنگ سے متعلق تمام معلومات حاصل کر سکیں گے۔

ریلوے کے مختلف شعبہ جات، جن میں کیٹرنگ، صفائی، اور سلیپر فیکٹریز شامل ہیں، آؤٹ سورس کیے جا رہے ہیں۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی، ملتان اور خانیوال میں صفائی کا جدید نظام نافذ کر دیا گیا ہے، اور تمام اسٹیشنز کو 24 گھنٹے صاف ستھرا رکھنے کے لیے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں سے معاہدے کیے گئے ہیں۔

لاہور اسٹیشن پر 4 اسکیلیٹرز نصب کر دیے گئے ہیں جبکہ کراچی میں تنصیب کا عمل جاری ہے۔ لاہور تا راولپنڈی ریل ٹریک کی اپ گریڈیشن کے لیے پنجاب حکومت نے 50 ارب روپے مختص کیے ہیں، جس سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہو جائے گا۔ اسی طرح روہڑی تا کراچی سیکشن پر کوئلہ لے جانے والی 105 کلومیٹر لمبی نئی ریلوے لائن پر کام اپریل 30 تک مکمل کر لیا جائے گا، جس سے بجلی کی قیمت فی یونٹ 15 روپے سے کم ہو کر 4.

5 روپے تک آ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبہ پاکستان کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے؟

وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے پولیس میں 500 نئے اہلکار بھرتی کیے جا رہے ہیں، اسٹیشنز پر اسکینر، میٹل ڈیٹیکٹرز اور سیفٹی کیمروں کی تنصیب کی جا رہی ہے۔ ریلوے میں اسمگلنگ اور بغیر ٹکٹ سفر پر اب سزا دی جائے گی۔

ریلوے کی آمدنی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ادارے نے اس مالی سال میں 93 ارب روپے کمائے ہیں، جو ایک اہم کامیابی ہے۔

حنیف عباسی نے مزید بتایا کہ ریلوے کالونیوں میں صفائی کے لیے “سُتھرا پنجاب” مہم کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے، اور صفائی کے عملے کو ان کے آبائی علاقوں میں ری اسائن کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ریلوے کے اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کو بحال کیا جا رہا ہے تاکہ کرکٹ، ہاکی، اور فٹ بال جیسے کھیلوں کو فروغ دیا جا سکے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا وژن واضح ہے: اب پیچھے مڑ کے نہیں دیکھنا، اور پاکستان ریلوے کو ایک جدید، خود کفیل اور ڈیجیٹل ادارہ بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اصلاحات پاکستان حنیف عباسی خاکہ ریلوے مسلم لیگ ن وفاقی وزیر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اصلاحات پاکستان حنیف عباسی خاکہ ریلوے مسلم لیگ ن وفاقی وزیر حنیف عباسی نے وفاقی وزیر نے کہا کہ رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ