اسرائیل نے ایران پر فضائی حملہ کر دیا ہے، امریکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
TEHRAN:
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی توقع ہے، اس لیے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
یروشلم میں شہریوں کو سائرن کی آواز سے بیدار کیا گیا، جس کے فوراً بعد موبائل فونز پر خطرے سے آگاہی کے پیغامات بھی موصول ہوئے۔
امریکی ٹی وی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے صورتحال کے باعث کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایران کا جوہری پروگرام، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور دیگر اہم عسکری تنصیبات تھیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ یہ ایئرپورٹ ایرانی دارالحکومت سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
ایران کی جانب سے تاحال سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری طور پر تحمل اور کشیدگی میں کمی کی اپیل متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔