ڈی ڈبلیو پی اور جے ایس بینک کا جدید بینکاری کی جانب اہم قدم
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) ڈی ڈبلیو پی ٹیکنالوجیز اور جے ایس بینک کے مابین ڈیجیٹل سسٹم کے لئے معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت وہ سسکو کی جدید ”ایپلیکیشن سینٹرک انفراسٹرکچر ” ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے۔ اس معاہدے کا مقصد جے ایس بینک کے ڈیجیٹل نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کو مضبوط کر نا شامل ہیں۔اس حوالے سے ایک تقریب میں ڈی ڈبلیو پی کے ریجنل سیلز ہیڈ وسیم شیرنے شرکت کی۔ڈی ڈبلیو پی ٹیکنالوجیز نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ سسکو اے سی آئی سسٹم مسقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے جے ایس بینک کے دفتر میں نصب کئے ہیں۔پارٹنرشپ میں اپنا کردا ر ادا کرتے ہوئے سسکو کے ماہرین نے جے ایس بینک کی تکنیکی ٹیم کواس سسٹم کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی جس میں جے ایس بینک کی ٹیم کو سسٹم کے آٹومیٹک پروگرامنگ، سیکیورٹی خصوصیات، اور کارکردگی کو سمجھایا گیا تاکہ بینک کا عملہ اس ٹیکنالوجی کو بہتر انداز میں استعمال کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈی ڈبلیو پی جے ایس بینک
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔