ایران سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، دوستانہ راستے کو ترجیح دینگے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اپنے ایک تازہ بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران سے سخت مذاکرات ہونگے، تاہم امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملہ ممکن ہے کہ ہو جائے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ اسرائیلی حملہ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا ایران ایٹمی مذاکرات کی بظاہر ناکامی کے بعد خلیج فارس کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ایران سے معاہدے کے قریب ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ دوستانہ راستے کو ترجیح دیں گے لیکن بڑے تنازع کا بھی خطرہ موجود ہے، بہت جلد کچھ ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے سخت مذاکرات ہوں گے، تاہم امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملہ ممکن ہے کہ ہو جائے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ اسرائیلی حملہ ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملہ کہا ہے کہ وہ امریکی صدر کہ ایران ایران سے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔