امریکی ریاست مشی گن کے وال مارٹ اسٹور میں چاقو سے حملہ، 11 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
امریکی ریاست مشی گن کے ٹریورس سٹی میں موجود ایک وال مارٹ اسٹور میں ایک شخص نے چاقو سے حملہ کر کے کم از کم 11 افراد کو زخمی کر دیا، جن میں سے 6 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نے اندھا دھند لوگوں کو نشانہ بنایا۔ پولیس ترجمان کے مطابق تمام متاثرین کا انتخاب اتفاقیہ تھا اور کسی دوسرے حملہ آور کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیے: آسٹریلیا: چاقو حملے کا ایک اور واقعہ، 16 سالہ حملہ آور کو ہلاک کردیا
واقعے کے بعد اسٹور میں موجود خریداروں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی اور حملہ آور کو قابو کرلیا۔ پولیس نے حملے کے چند ہی منٹ بعد 42 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ حملہ آور کا تعلق مشی گن سے ہی ہے۔
واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام 4:45 بجے کے قریب پیش آیا جب حملہ آور گار فیلڈ ٹاؤن شپ کے وال مارٹ میں داخل ہوا اور ایک فولڈنگ چاقو سے چیک آؤٹ ایریا میں موجود افراد پر حملہ کر دیا۔
شہر کے گورنر گریچن وٹمر نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہنگامی عملے کی فوری کارروائی کو سراہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ریاست چاقو حملہ مشی گن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ریاست چاقو حملہ حملہ آور
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔