مثبت ضمیر کے ساتھ چیئرمین ایچ ای سی کا عہدہ چھوڑ رہا ہوں، ڈاکٹر مختار
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ڈاکٹر مختار(فائل فوٹو)۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئر پرسن ڈاکٹر مختار نے کہا ہے کہ وہ ایک مثبت ضمیر کے ساتھ چیرمین کا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔
توسیع شدہ مدت ختم ہونے کے آخری روز وائس چانسلرز، ریکٹرز اور انسٹیٹیوٹس کے سربراوں کے نام اپنے الوداعی مکتوب میں ڈاکٹر مختار نے کہا کہ اگرچہ یقینی طور پر بہتری کی گنجائش موجود ہے اور آج بھی اس شعبے کو بہت سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن ایچ ای سی نے گزشتہ تین سالوں میں جو کام کیا وہ اہم تھا۔
مکتوب میں کہا گیا ہے کہ میری مدت ملازمت ختم ہونے پر میں اعلیٰ تعلیمی برادری کی طرف سے ملنے والے تمام تعاون کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرنے اور اپنے ساتھیوں کو ایک روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کے ساتھ الوداع کہنے کے لیے اس موقع کر رہا ہوں۔
انھوں نے کہا تین سال قبل جب مجھے دوسری بار اس انتہائی اہم شعبے کی قیادت کرنے کی بھاری ذمہ داری سونپی گئی تو اعلیٰ تعلیم کو بہت بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جب کہ کمیونٹی اپنی صفوں میں تقسیم کا شکار تھی۔ اس کے بعد کے تین سال مختلف نہیں تھے اور اس شعبے کی تیزی سے توسیع کے درمیان مالیاتی جگہ، گورننس کی حدود اور معیار میں بہتری نے میرے کام کو اور بھی مشکل بنا دیا۔
مکتوب میں کہا گیا ہے کہ آپ کے تعاون اور اجتماعی عزم کے بغیر ان لہروں سے گزرنا ناممکن تھا۔ میں نے ہمیشہ آپ کو تمام معاملات پر ایچ ای سی کے ساتھ تعمیری مشغولیت و تعاون کے لیے تیار پایا، بشمول پالیسی اور گورننس کے مسائل، کچھ سخت انتخاب کرنے اور اس شعبے کو مستقبل کی ترقی اور بین الاقوامی مطابقت کے راستے پر ڈالنے کے لیے درکار طاقت یچ ای سی پر ڈالی۔ نقطہ نظر وسیع تر مشاورت، ٹیم ورک، میرٹ اور شفافیت پر مبنی تھا۔
مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ آپ کی غیر مشروط حمایت اور کمیشن کے معزز اراکین کی رہنمائی کے ساتھ میں یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ میں ایک مثبت ضمیر کے ساتھ یہ عہدہ چھوڑ رہا ہوں۔ اگرچہ یقینی طور پر بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
آج بھی اس شعبے کو بہت سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن ایچ ای سی نے گزشتہ تین سالوں میں جو کام کیا وہ اہم تھا آخر میں ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی اجتماعی بہتری کے لیے میرے دفتر کو مسلسل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ میں اپنے جانشین کو اس چارج سونپتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر مختار مکتوب میں ایچ ای سی کے ساتھ رہا ہوں کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔