وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی خیبرپختون خوا حکومت گراکر دکھائے، 5 اگست کو صوبے میں احتجاجی مظاہرے کو لیڈ کروں گا۔ڈسٹرکٹ کورٹس میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہاکہ 5 اگست کو ہر ضلع اور ہر حلقے سے عوام سڑکوں سے نکلیں گے، گرفتاریوں اور پیشیوں سے گھبرانے والے نہیں، احتجاجی مظاہرے کو خود لیڈ کروں گا۔انہوں نے کہاکہ اس ملک میں قانون حرکت میں نہیں ہے، ملک کے موجودہ حالات کی جنگ عمران خان لڑرہے ہیں۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ جھوٹے اور من گھڑت کیسز بہت پہلے سے چل رہے تھے.

ہم ہمیشہ سے اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کرتے ہیں، ہم اس طرح کی پیشیوں سے گھبرانے والے نہیں۔میرے خلاف یہ کیس 2016 سے چل رہا ہے، اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، مجھ پر اسلحہ اور بوتلیں ڈالی گئی ہیں۔قبل ازیں، وزیراعلی علی امین گنڈا پور نے اسلحہ اور شراب برامدگی کیس میں اسلام اباد کی ضلعی کچہری میں جوڈیشل میجسٹریٹ مبشر حسن چشتی کی عدالت میں سرنڈر کر دیا۔عدالت نے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے شوکاز نوٹس واپس لے لیا.عدالت نے وکیل کی 342 کے بیان کے لیے سوال نامہ فراہم کرنے کی استدعا بھی منظور کرلی۔دوران سماعت علی امین گنڈاپور کے وکیل راجہ ظہور الحسن نے عدالت کو بتایا آج ہم اپنا 342 کا بیان ریکارڈ نہیں کروائیں گے. عدالت پہلے بریت کی درخواستوں پر دلائل سن لے. اس حوالے سے عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں۔عدالت نے وکیل کی استدعا پر بریت کی درخواست پر دلائل شروع کرنے کا کہا تو وکیل صفائی نے کہا میں آج دلائل نہیں دے سکتا، مجھے کم سے کم 5 گھنٹے درکار ہیں اور تیاری کے لیے بھی 5 دن کا وقت درکار ہے۔عدالت نے کہا کہ آپ دلائل کا آغاز کریں، ہمارے پاس 5 گھنٹے ہیں، وکیل نے کہا کہ عدالت ہمیں 342 کا سوال نامہ فراہم کر دے ہم سوال نامے کے جوابات کے ساتھ بریت کی درخواست پر دلائل بھی اکٹھے دے دیں گے.عدالت نے ریمارکس دیے آج 3 بجے اپ کو سوال نامہ فراہم کر دیا جائے گا۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے عدالت کو بتایا کہ 21 تاریخ کو سینٹ الیکشن کے باعث پیش نہیں ہوسکا. میں وزیراعلی کے ساتھ ووٹر بھی ہوں. میری موجودگی وہاں ضروری تھی۔

عدالت نے کہا کہ ہم نے تو اپ کو آپشن دیا تھا، آپ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیتے، علی امین گنڈا پور نے جواب دیا میں آن لائن آگیا تھا لیکن انٹرنیٹ میں تکنیکی خرابی تھی جس کے باعث بیان ریکارڈ نہیں کروا سکا۔عدالت نے علی امین گنڈا پور کو سرینڈر کے بعد جانے کی اجازت دے دی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے وارنٹ گرفتاری بھی منسوخ کر دیے گئے جبکہ کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔

بعدازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلحہ و شراب برآمدگی کیس کی سماعت کا 2 صفحات پر مشتمل حکمنامہ جاری کر دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے عدالتی حکم نامے میں علی امین گنڈاپور کی مسلسل غیر حاضری پر کئی بار جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری اور شوکاز نوٹس منسوخ کرتے ہوئے نرمی کا مظاہرہ کیا۔عدالت نے تسلیم کیا کہ ملزم سرکاری مصروفیات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکے.تاہم انہیں آئندہ سماعتوں میں مسلسل حاضری کی ہدایت کی گئی ہے.عدالت نے علی امین گنڈاپور کو ذاتی حیثیت میں 31 جولائی کو طلب کر لیا ہے جہاں ان کی بریت کی درخواست پر وکیل صفائی دلائل دیں گے، جبکہ سوال نامہ دوبارہ فراہم کرنے کی درخواست بھی منظور کر لی گئی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور نے علی امین گنڈاپور بریت کی درخواست سوال نامہ نے کہا کہ فراہم کر عدالت نے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا