شکارپورمیں دھماکہ ، کو کوئٹہ جانے والی جعفرایکسپریس کی 3بوگیا ں پٹڑی سے اترگئیں ، ٰٓایک شخص زخمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
شکار پور (نیٹ نیوز) سندھ کے شہر شکارپور کے قریب دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس ٹرین کی تین بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، ایک شخص زخمی ہوگیا۔ سکھر سے ریسکیو ٹیموں کو حادثے کے بعد مرمت کے کام کے لیے روانہ کیا گیا۔ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ جمشید عالم نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس پشاور سے کوئٹہ جا رہی تھی، جب سلطان پور کے قریب دھماکے کا شکار ہوئی۔ دھماکے کے بعد ٹرین آپریشن معطل کر دیئے گئے۔ مسافروں کو ٹرین کی پٹڑی سے اترنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹریک کی مرمت میں 5 گھنٹے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرین سروس کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ دھماکہ صبح 10 بج کر 20 منٹ پر ہوا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ریلوے ٹریک دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور دھماکے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ واقعہ کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دھماکہ ریاست کے خلاف کارروائی ہے‘ کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ایک غیر معروف دہشتگرد نے واقعے کو مسلح حملہ قرار دیتے ہوئے ذمہ داری قبول کر لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔