خیبرپختونخوا کے معروف سیاحتی مقامات کا رخ کرنے والے افراد کے لیے اہم اطلاع سامنے آئی ہے، حکومت نے ناران، کاغان، جھیل سیف الملوک سمیت دیگر علاقوں میں داخلے سے پہلے انٹری فیس کی ادائیگی کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اب کاغان ویلی سمیت متعلقہ مقامات پر جانے سے پہلے انٹری فیس ادا کرنا ضروری ہوگا۔ اس سلسلے میں حسام آباد کے مقام پر ایک انٹری فیس وصولی پوائنٹ قائم کیا جائے گا، جہاں بڑی گاڑیوں سے 200 روپے، چھوٹی گاڑیوں سے 100 روپے اور موٹر سائیکلوں سے 20 روپے فیس وصول کی جائے گی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)

حکومت کے اس فیصلے پر صارفین کی ایک بڑی تعداد تنقید کرتی نظر آئی۔ ایک صارف نے لکھا کہ سانس لینے پر بھی ٹیکس لگا دیں، اب بچا ہی کیا ہے جبکہ لائبہ عدنان لکھتی ہیں کہ اگلے سال ان مقامات پر ویزہ لگوا کر جانا پڑے گا۔

سید دانش نے مشورہ دیا کہ ان پیسوں سے ایمرجنسی سروس اسٹارٹ کر لینا جبکہ ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ویسے بھی اب ناران، کاغان میں دیکھنے والا ہے بھی کیا، شور، رش اور گندگی۔

واضح رہے کہ دستاویز کے مطابق انٹری فیس مقرر کرنے کی منظوری بورڈ آف گورنرز نے دے دی ہے، اور اس کا فیصلہ آمدن بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انٹری فیس مقرر کرنے سے ماہانہ لاکھوں روپے کی آمدنی ملے گی جبکہ مقامی لوگ انٹری فیس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جھیل سیف الملوک خیبرپختونخوا سیاحتی مقامات سیاحتی مقامات پر ٹیکس کاغان ناران.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جھیل سیف الملوک خیبرپختونخوا سیاحتی مقامات سیاحتی مقامات پر ٹیکس کاغان سیاحتی مقامات انٹری فیس کے لیے

پڑھیں:

بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کی اضافی رہائش گاہوں کی تعمیرکے منصوبے کے لیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزکے مطابق اراکین پارلیمنٹ کےلیے اضافی فیملی سوٹس بشمول 500 سرونٹ کوارٹرزکی تعمیر کے منصوبے کے لیے آئندہ مالی سال ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ 

منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40کروڑروپے ہے اور 30 جون 2026 تک اس پر 2 ارب 29 کروڑ روپےکے اخراجات کا تخمینہ ہے۔

15جون تک مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ملک گیر ہڑتال ہو گی، پٹرول پمپ مالکان

دستاویزات کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر جی فائیو ٹو میں اس کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ پارلیمنٹ لاجز سے متصل ممبران پارلیمنٹ کے لیے 104 فیملی سوٹس تعمیر کیے جا ر ہے ہیں جن کی فنشنگ کا کا م جاری ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی