محکمہ بلدیات پنجاب میں کروڑوں کا غبن، آڈٹ رپورٹ میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
محکمہ بلدیات پنجاب میں 9 کروڑ 45 لاکھ کا غبن سامنے آیا ہے جس کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی مالی سال 2019 اور 2020 آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبے کے اخراجات کا ریکارڈ پیش نہ کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق سولڈ ویسٹ منصوبے کے پی سی ون معاہدے اور ادائیگیوں کے ثبوت غائب کردیے گئے، آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی باربار یاد دہانی پر بھی مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں اور آڈٹ ٹیم کو ٹھیکیداروں کی ادائیگی، کنسلٹنٹس کی فیس،بینک گارنٹی کا ریکارڈ نہیں دیا گیا۔ڈی جی لوکل گورنمنٹ آفس نے ریکارڈ فیلڈ دفاتر میں ہونے کا مؤقف اپنایا لیکن آڈٹ کمیٹی نے مؤقف مسترد کرتے ہوئے 45 دن میں انکوائری کی ہدایت دی۔آڈیٹر نے جون 2019 میں ریکارڈ کی عدم فراہمی کی نشاندہی کی تھی۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ قواعد کی خلاف ورزی پر ذمے داروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آڈٹ رپورٹ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔