این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات نے بارشوں کی الگ الگ پیش گوئی کی، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
ملک بھر میں رواں سال مون سون کی بارشوں سے 998 افراد ہلاک اور 1062 افراد زخمی ہوئے جبکہ مجموعی طور پر 3 کروڑ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود ملک میں پیشگی انتباہی نظام یعنی ارلی وارننگ سسٹم کا نہ ہونا حالیہ تباہی کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ اب سینیٹ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (پی ڈی ایم) نے سیلاب اور بارشوں کی الگ الگ پیش گوئی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مون سون کا آخری اسپیل اختتام کے قریب،5 ہزار سے زائد دیہات زیر آب: چیئرمین این ڈی ایم اے
سینیٹ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا، کمیٹی اجلاس میں رکن کمیٹی سینیٹر وقار احمد نے کہا کہ ملک میں پیشگی انتباہی نظام کا نہ ہونا حالیہ تباہی کی بڑی وجہ بن رہی ہے، سندھ اور کراچی میں ہونے والی بارشوں کے موقع پر پی ایم ڈی نے غلط وارننگ جاری کی تھی۔
پی ڈی ایم اے سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس محدود وسائل ہیں، بارشوں سے قبل پی ایم ڈی اور این ڈی ایم اے کی مختلف رپورٹس آ رہی تھی اور پی ایم ڈی نے غلط جگہ پر زیادہ بارشوں کی اطلاع دی تھی، ہم نے اس مقام پر تیاری کی اور بارش کسی اور جگہ ہو گئی جس سے نقصانات ہوئے، حیدرآباد میں بھی 27 اگست کو این ڈی ایم اے اور پی ایم ڈی نے الگ الگ پیشنگوئیاں بھیجیں تھیں۔
اس موقع پر پی ایم ڈی حکام نے بتایا کہ پی ایم ڈی صرف بارشوں کی پیشگوئی کرتا ہے جبکہ پی ڈی ایم اے اس پیشنگوئی کا جائزہ لے کر وارننگ جاری کرتا ہے۔
ملک میں پیشگی انتباہی نظام کے نہ ہونے پر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، فلیش فلڈنگ کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں، مقامی لوگوں کے لیے یہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ان کے مویشی اور بہت سی قیمتی اشیا پانی میں بہہ جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں چرواہے کا کردار سب نے دیکھا ہے، چرواہے کی بروقت اطلاع دینے سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی جان بچ گئی۔
کمیٹی اجلاس میں حالیہ سیلاب، متاثرین کی حالت، امدادی سرگرمیوں کی پیشرفت، پینے کے پانی کی صورتحال اور حکومتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حالیہ سیلاب کے باعث ملک بھر میں تقریباً 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 3 لاکھ سے زائد افراد اب بھی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کا سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان
انہوں نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں 998 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 1062 افراد زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ پنجاب رہا جہاں 29 لاکھ لوگ سیلاب کی زد میں آئے۔
سینیٹر شیری رحمان نے حکومت کی جانب سے متاثرہ افراد کو بروقت مالی امداد نہ دیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو فوری طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت امدادی رقوم منتقل کی جائیں کیونکہ اس حوالے سے تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔
کمیٹی نے خیمہ بستیوں میں موجود لوگوں کی حالتِ زار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرپرسن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیمہ بستیوں میں صاف پانی، بجلی، صحت کی بنیادی سہولیات اور انسانی وقار کے مطابق حالات مہیا کیے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو عارضی خیموں سے متاثرین کو مستقل رہائش فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ انہیں بار بار قدرتی آفات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب کا آغاز خیبرپختونخوا کے علاقے بونیر اور شمالی علاقہ جات میں گلگت بلتستان سے فلیش فلڈنگ کی صورت میں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور پاکستان اب دنیا کے ان 5 ممالک میں شامل ہو چکا ہے جو ماحولیاتی تباہی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں سیلاب سے کتنے نقصانات ہوئے، پی ڈی ایم اے نے تفصیلات جاری کردیں
انہوں نے کہا کہ ملک میں سردیوں کا دورانیہ کم اور گرمیوں کا دورانیہ بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بارشوں کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اپریل 2025 کو گزشتہ 65 سال کا گرم ترین اپریل قرار دیا گیا ہے۔
بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ پنجاب اور سندھ میں پاک فوج اور نیوی کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہیں۔ اب تک ملک بھر میں 2000 سے زائد ریلیف کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں جہاں متاثرین کو عارضی پناہ دی جا رہی ہے۔ تاہم چیئرمیں کمیٹی نے ان کیمپس کی حالت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہاں انسانی معیار کے مطابق سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این ڈی ایم اے بارشیں پی ڈی ایم اے سیلاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این ڈی ایم اے پی ڈی ایم اے سیلاب ڈی ایم اے پی ڈی ایم اے بارشوں کی نے کہا کہ پی ایم ڈی بتایا کہ انہوں نے ملک میں یہ بھی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔