کراچی:

سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے نقصان کے حوالے سے حکومت اور جائیکا نے متاثرہ کسانوں کیلیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

صوبائی حکومت اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے اعلیٰ عہدیداران کے درمیان اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سیکریٹری زراعت سندھ محمد زمان ناریجو نے کی۔ 

اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت، جائیکا کے چیف ایڈوائزر ماساہیرو کاوامورا، ھیدی کازو تنی مورا سمیت محکمہ زراعت کے افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبے میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے زرعی شعبے کو پہنچنے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل زراعت نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کپاس، تل، سبزیوں اور دیگر فصلیں بارشوں کے نتیجے میں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جبکہ تقریباً 4 لاکھ ایکڑ کچے کا علاقہ سیلابی پانی کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ 

اجلاس میں سندھ اسمال ہولڈر ہارٹیکلچر فارمر امپروومنٹ پروگرام کے تحت سالانہ ورک پلان پر بھی غور کیا گیا اور متاثرہ کسانوں کی فوری بحالی کے اقدامات تجویز کیے گئے۔ 

سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ہنگامی بنیادوں پر عملی حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ زرعی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ متاثرہ کسانوں کے لیے بینظیر ہاری کارڈ کی رجسٹریشن کا عمل تیز کیا جائے تاکہ ان تک مالی معاونت جلد از جلد پہنچائی جا سکے۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کسانوں کی مشکلات کم کرنے اور زرعی ترقی کے لیے جائیکا کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔ اجلاس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ اقدامات کے ذریعے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: متاثرہ کسانوں کسانوں کی

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان