پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس ،باہمی تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس ،باہمی تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ وزارتی کمیشن نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے حجم کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانترکیہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا 16واں اجلاس 8 اور 9 ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا،جس کی صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ترکیہ کے قومی دفاع کے وزیر یاسر گلر نے مشترکہ طور پر کی۔اجلاس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مختلف وزارتوں اور اداروں کی سطح پر مشاورت اور ہم آہنگی کا بھرپور سلسلہ جاری رہا، جس میں اعلی سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل، مشترکہ قائمہ کمیٹیوں اور سفارتی مشنز نے اہم کردار ادا کیا۔اجلاس کے دوران ایک جامع مسود پروٹوکول کا پیشگی جائزہ لیا گیا، جبکہ حتمی تکنیکی اجلاس میں اہم شعبوں میں تعاون سے متعلق معاملات کو کامیابی سے طے کیا گیا۔
اس اجلاس میں وزیر تجارت جام کمال خان اور ترکیہ کے وزیر برائے قومی دفاع نے ان پروٹوکولز پر دستخط کیے جن کے ذریعے باہمی وعدوں اور فیصلوں کو باضابطہ حیثیت دی گئی۔مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں24کلیدی شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، بینکاری و مالیات، صنعتی تعاون، تعلیم، صحت، محنت، سیاحت اور ماحولیاتی تبدیلی شامل ہیں۔اس دوران ایک نمایاں پیش رفت یہ رہی کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور ٹریڈ ان گڈز ایگریمنٹ سے متعلق مذاکرات کا پہلا بالمشافہ دور اکتوبر 2025 میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اس کے علاوہ، کاروباری اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینے، ڈیجیٹل تجارت کو آسان بنانے اور کسٹمز تعاون کو مثر بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔
دونوں فریقین نے علاقائی روابط کو فروغ دینے کے لیے اسلام آبادتہران استنبول (آئی ٹی آئی)ریلوے کوریڈور کو جلد فعال کرنے اور مجوزہ ترپاک ٹرانسپورٹ کوریڈور پر پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کیا، میری ٹائم(سمندری)شعبے میں بھی تعاون کو بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی گئی، جس میں جہازوں کی ری سائیکلنگ اور بندرگاہوں کی ترقی شامل ہے۔
توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک نے قابلِ تجدید توانائی، ہائیڈروکاربنز، ہائیڈروجن، معدنیات، ایل این جی، اور الیکٹرک گاڑیوں کے انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے لیے ذیلی ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیا، مزید یہ کہ بجلی کی ترسیل، تقسیم اور پن بجلی منصوبوں میں بھی باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔ڈیجیٹل تبدیلی اور صنعتی جدت کے شعبے میں بھی قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی، پاکستان اور ترکیہ نے ایک آئی ٹی بزنس فورم منعقد کرنے اور ایس ایم ای تعاون کو مفاہمتی یادداشت کے تحت مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا، زراعت میں مویشیوں کی صحت، آبپاشی، ماہی گیری، اور ڈیجیٹل فصلوں کی نگرانی کے نظام کی ترقی میں اشتراک پر اتفاق کیا گیا۔
مالیاتی میدان میں دونوں ممالک نے ترک بینکوں کی پاکستان میں موجودگی کے امکانات کا جائزہ لینے، اسلامی اور ڈیجیٹل فنانس کو فروغ دینے اور ایکسِم بینکوں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔فریقین نے محنت کشوں کے حقوق، خواتین کی ملازمت، بچوں کے تحفظ، اور سماجی تحفظ کے نظام کے استحکام سے متعلق مفاہمتی یادداشت کو جلد حتمی شکل دینے پر آمادگی ظاہر کی اور ایک مشترکہ ورکنگ کمیشن برائے محنت کے قیام پر اتفاق کیا۔
دیگر اہم معاہدوں میں نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد میں پاکستانترکیہ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی سینٹر کو فعال کرنا، تعلیمی اور فنی تبادلہ پروگرامز میں توسیع، سیاحت، دوا سازی، طبی سیاحت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے میدانوں میں اشتراک بڑھانا شامل ہے۔نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبے میں بھی ایک مخصوص ورکنگ گروپ کے تحت تعاون کو فروغ دیا جائے گا، ساتھ ہی ساتھ سماجی تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق امور میں بھی اشتراک کو وسعت دی جائے گی۔وزارتِ اقتصادی امور پاکستانترکیہ اقتصادی تعلقات میں پیدا ہونے والی نئی پیش رفت کا خیرمقدم کرتی ہے اور اجلاس میں طے پانے والے اہم فیصلوں اور منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کی توقع رکھتی ہے۔اجلاس کے نتائج دونوں ممالک کے اس مشترکہ وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد ایک گہری، وسیع تر اور اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کی تشکیل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیجر عدنان اسلم شہید کی نماز جنازہ چکلالہ راولپنڈی میں ادا کر دی گئی،وزیراعظم ، فیلڈ مارشل کی شرکت میجر عدنان اسلم شہید کی نماز جنازہ چکلالہ راولپنڈی میں ادا کر دی گئی،وزیراعظم ، فیلڈ مارشل کی شرکت ہائبرڈ نظام پاکستان کیلئے مفید، کچھ لوگوں کو اس سے تکلیف ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف ملک بھر کیلئے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ مد میں بجلی 1روپے 79پیسے فی یونٹ سستی کردی گئی سعودیہ اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ قطر کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، سعودی ولی عہد کا امیر قطر کو ٹیلی فون اسرائیلی حملے میں ہمارا کوئی رہنما شہید نہیں ہوا، حماس کی تردید قطر پر اسرائیلی حملہ علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور خطرناک اشتعال انگیزی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا ردعملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشترکہ وزارتی کمیشن پاکستان اور ترکیہ اور ترکیہ کے پر اتفاق کیا دونوں ممالک باہمی تجارت اجلاس میں کے درمیان تعاون کو کیا گیا میں بھی پیش رفت کو فروغ
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔