سیلاب کی تباہ کاریاں اورکسانوں کی پکار
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
پاکستان قدرتی آفت کے ایسے امتحان سے دوچار ہے جس نے لاکھوں خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ بارشوں اور سیلابی ریلوں نے ملک کے طول و عرض میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے نشیبی علاقے ہوں یا خیبر پختونخوا اور پوٹھوہار کی پہاڑی بستیاں، ہر طرف بربادی کے مناظر ہیں۔
ہمارے ہاں ہمیشہ یہ روایت رہی ہے کہ حکمران طبقہ ان مسائل پر ہی توجہ دیتا ہے جنھیں میڈیا اجاگر کرے۔ ایسے متاثرین جن کی حالت زار کیمرے کی آنکھ تک نہیں پہنچتی، وہ محروم رہ جاتے ہیں۔ پنجاب کے میدانی علاقوں، خیبر پختونخواکی تباہی تو نظر آئی لیکن پنجاب کا خطہ پوٹھوہار اور بالخصوص وادیِ سون اس کوریج سے محروم رہے۔
میرا گاؤں وادیِ سون کے پہاڑوں کے درمیان ہے۔ اس مرتبہ طوفانی بارشوں سے جو پانی پہاڑوں سے بہہ کر نیچے آیا، اس نے فصلوں کو بھی برباد کر دیا اور زمین کاشت کے قابل نہ رہیں۔ مجھے خبر ملی کہ کئی سال قبل بڑی جدوجہد اور اپنی جیب سے سرمایہ لگا کر جو دو ڈیم بنوائے تھے، وہ اس سیلاب میں ٹوٹ گئے۔ زمینوں پر پتھروں اور مٹی کے ڈھیر لگ گئے اور وہ کھیت جو کبھی سرسبز تھے، آج ویران پڑے ہیں۔
رابطہ سڑک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے ۔دیہات میں یہ روایت ہے کہ اگر کسی کی فصل خراب ہو جائے یا کوئی جانور مر جائے تو پورا گاؤں پرسہ دینے پہنچتا ہے۔ مگر جب پورا گاؤں ہی متاثر ہو تو سب ایک دوسرے کو دیکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ میں بھی گزشتہ دنوں گاؤں گیا اور اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا کہ جن زمینوں پر برسوں سے فصلیں لہلہا رہی تھیں، وہاں اب پتھروں اور ریت کے ڈھیر پھیلے ہوئے تھے۔ وہ ڈیم جنھیں ہم نے بڑی محنت اور امید سے تعمیر کرایا تھا ان کے پتھر ٹوٹ پھوٹ کر جگہ جگہ بکھرے پڑے تھے۔
کسانوں کی آنکھوں میں اپنی زمین دوبارہ آباد کرنے کی خواہش تو تھی لیکن وسائل کی کمی ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن کر کھڑی تھی۔میں نے محکمہ زراعت سے بلڈوزر حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ زمین کو وقت پر تیار کیا جا سکے کیونکہ آلو کی فصل کا موسم قریب ہے اور اگر زمین بروقت قابلِ کاشت نہ بنی تو کسانوں کی سال بھر کی روزی خطرے میں پڑ جاتی لیکن سرکاری نظام کی سست روی اور کاغذی کارروائی کے باعث معاملہ تاخیر کا شکار رہا۔ مجبورا نجی بلڈوزر کرائے پر منگوانا پڑا اگرچہ اخراجات بہت زیادہ تھے مگر کسانوں کے لیے یہ ایک مجبوری تھی۔ خوشی کی ایک کرن یہ ضرور تھی کہ زمین کی بحالی کا عمل دیکھ کر کسانوں کی آنکھوں میں امید کی چمک نظر آئی۔
ان کی اور ہماری زندگی انھی کھیتوں سے وابستہ ہے مگر افسوس یہ ہے کہ جب کسان اپنی محنت اور وسائل سے زمین آباد کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے اسی دوران سرکار کی بے حسی اس کے دکھوں میں اضافہ کر دیتی ہے۔ مجھے خود پٹواری کی طرف سے پیغام ملا کہ اس سال کا زرعی ٹیکس جمع کرائیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دل کٹ کر رہ گیا۔ ایک طرف زمین تباہ ہو گئی، فصل برباد ہو گئی، کسان قرض اور محنت میں ڈوبا ہوا ہے اور دوسری طرف سرکاری خزانہ اس سے ٹیکس وصول کرنے پر بضد ہے۔
سرکاری کاغذات کسان کے دکھ کو نہیں جانتے لیکن کیا یہ ذمے داری مقامی افسران کی نہیں کہ وہ حقیقت کو اوپر تک پہنچائیں؟ کیا یہ انصاف ہے کہ وادیِ سون کے کسان جن کی زمینیں پانی بہا لے گیا، ان سے بھی اسی طرح زرعی ٹیکس وصول کیا جائے جیسے کسی خوشحال علاقے کے کاشتکار سے؟بھلا ہو بلاول بھٹو زرداری کا جنھوں نے کسانوں کے لیے آواز بلند کی ہے اور پنجاب کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر یہی سوچ وادیِ سون تک بھی پہنچ جائے تو شاید ہماری بھی اشک شوئی ہو جائے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ جب تک کسی علاقے کا ذکر میڈیا پر نہ آئے یا سیاست دانوں کو وہاں سے ووٹ کی امید نہ ہو وہاں کے لوگ اپنی قسمت کے سہارے ہی رہتے ہیں۔
سیلاب کے بعد اب ایک اور خطرہ منڈلا رہا ہے۔ زرعی پیداوار کی کمی کی وجہ سے گندم اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اجناس کی قلت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ظاہر ہے جب ضرورت کے مطابق پیداوار نہیں ہوگی تو منڈی میں نرخ بڑھیں گے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ابھی سے گندم، چاول اور گنے کے مناسب سرکاری نرخوں کا اعلان کرے تاکہ کسان اعتماد کے ساتھ آیندہ فصل کے لیے زمین تیار کرے۔
سیلاب اپنی تباہی کے ساتھ گزر جاتا ہے مگر اس کے بعد جو معاشی بربادی سامنے آتی ہے وہ زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے، آج کسان کو سہارا نہ دیا گیا تو کل پورا ملک بھوک اور مہنگائی کے بحران کا شکار ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے، بلاسود قرضے فراہم کرے، کسانوں کو حوصلہ دے اور ان کی زمینوں کو دوبارہ آباد کرنے میں مدد فراہم کرے۔ یہ امداد صرف زبانی وعدوں اور فوٹو سیشن تک محدود نہ رہے بلکہ زمین پر عملی طور پر نظر آنی چاہیے۔یہ بات سب کو سمجھنی چاہیے کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد کسان ہے۔ جب تک کھیتوں میں سبزہ لہلہاتا رہے گا ملک خوشحال رہے گا۔ لیکن اگر کسان کی پکار کو نظرانداز کیا گیاتو یہ صرف کسان کی بربادی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم