گلستان جوہر میں اپارٹمنٹ کی زمین دھنس گئی، عمارت کے دو بلاکس سیل
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر میں رہائشی اپارٹمنٹ کی زمین اچانک دھنس گئی جس کے بعد عمارت کے دو بلاکس کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خالی کرالیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گلستان جوہر بلاک 10 میں واقع رہائشی عمارت چار بلاکس پر مشتمل ہے جس کے دو بلاکس کی زمین اچانک دھنس گئی ہے۔
مکینوں کے مطابق رات 5 بجے کے قریب زور دار دھماکا ہوا جس کے بعد کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ گئے، گھروں سے باہر نکل کر دیکھا تو زمین دھنسی ہوئی تھی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر اسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال ٹیم کے ہمراہ وقوعہ پر پہنچے جبکہ پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں بھی متاثرہ اپارٹمنٹ پہنچیں۔
بعد ازاں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام نے عمارت کا جائزہ لیتے ہوئے اسے خطرناک قرار دیا اور دو بلاکس کے گھروں کو خالی کروا کے انہیں سیل کردیا ہے۔
https://www.facebook.com/expressnewspk/videos/1324414542763890/?rdid=QANy5vwT8z4Qn6eV&share_url=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fshare%2Fv%2F1aSmzhKMXC%2F
حکام کے مطابق ایس بی سی اے کی تکنیکی ٹیم جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرے گی جس کی روشنی میں عمارت کے قابل رہائش یا ناقابل رہائش ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
فلیٹس کے مکین کھلے آسمان تلے بے آسرا بیھٹے ہیں اور اپنے آشیانہ کو دیکھ کر اداس ہیں۔مکینوں کے پاس ضرورت زندگی کا کوئی سامان نہیں ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مکینوں کو سیل فلیٹس سے سامان نکالنے سے روک دیا گیا یے جبکہ کسی قسم کی کوئی امداد بھی نہیں کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دو بلاکس
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔