لاہور ریلوے اسٹیشن پر ٹرین شیڈول میں بڑی تبدیلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
سٹی42: پاک بزنس ایکسپریس ٹرین کی افتتاحی تقریب کے باعث لاہور ریلوے اسٹیشن کا پلیٹ فارم نمبر 2 آج کے دن مسافروں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ پلیٹ فارم کی بندش کے باعث متعدد ٹرینوں کے لیے متبادل اسٹاپس کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو کم سے کم پریشانی ہو۔
ریلوے حکام کے مطابق آج کے دن لاہور سے راولپنڈی جانے والی ٹرین اب شاہدرہ ریلوے اسٹیشن پر رکے گی، لاہور سے کراچی جانے والی علامہ اقبال ایکسپریس اب لاہور کینٹ اسٹیشن پر اسٹاپ دے دیا گیا، لاہور سے پشاور جانے والی عوام ایکسپریس اسٹاپ شاہدرہ اسٹیشن پر ہوگا،کراچی سے لاہور آنے والی بزنس ایکسپریس: اسٹاپ لاہور کینٹ اسٹیشن پر دیا گیا۔
اس کے علاوہ کراچی سے لاہور آنے والی قراقرم ایکسپریس اب شاہدرہ اسٹیشن پر رکے گی،کراچی سے لاہور آنے والی کراچی ایکسپریس اسٹاپ کینٹ اسٹیشن پر منتقل،راولپنڈی سے لاہور اور کراچی جانے والی تیزگام اسٹاپس شاہدرہ اور کوٹ لکھپت اسٹیشنوں پر اور کراچی سے لاہور اور راولپنڈی جانے والی تیزگام: کوٹ لکھپت اسٹیشن پر اسٹاپ دیا گیا ہے
ریلوے ترجمان کے مطابق یہ متبادل انتظامات صرف آج کے دن کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ افتتاحی تقریب کے موقع پر ریلوے اسٹیشن پر رش کو کنٹرول کیا جا سکے۔
جنوبی ایشیائی ملک کا 40 ممالک کے لیے ویزا فیس ختم کرنے کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 کراچی سے لاہور ریلوے اسٹیشن جانے والی اسٹیشن پر دیا گیا کے لیے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔