صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میکسیکو اور یورپی یونین پر 30 فیصد درآمدی ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی تجارتی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا جب انہوں نے اعلان کیا کہ یکم اگست سے میکسیکو اور یورپی یونین سے درآمدات پر 30 فیصد درآمدی ٹیکس (ٹیرف) عائد کیا جائے گا، یہ اقدام گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات میں ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق صدر ٹرمپ نے یہ اعلان یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لاین اور میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین باوم کو علیحدہ علیحدہ خطوط کے ذریعے کیا، جنہیں انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بھی جاری کیا، صدر کے اس فیصلے سے نہ صرف بین الاقوامی سرمایہ کار پریشان ہو گئے ہیں بلکہ قریبی اتحادی ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ 30 فیصد ٹیرف عمومی ہوگا اور یہ دیگر شعبہ جاتی ٹیرفس سے ہٹ کر ہوگا، جس میں اسٹیل اور ایلومینیم پر پہلے سے عائد 50 فیصد جبکہ گاڑیوں کی درآمد پر 25 فیصد ٹیرف بدستور برقرار رہے گا، یکم اگست کی ڈیڈ لائن دراصل امریکا کے تجارتی شراکت داروں کو وقت دے گی کہ وہ ممکنہ معاہدوں کے ذریعے ان مجوزہ ٹیرفس میں نرمی لا سکیں۔ تاہم معاشی ماہرین اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایسے دھمکیاں دے کر بعض اوقات پیچھے ہٹ چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خط میں یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی مصنوعات پر اپنی موجودہ ٹیرف پالیسی ختم کرے اور مکمل آزاد تجارتی رسائی فراہم کرے، تاکہ امریکا کے ساتھ تجارتی خسارہ کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب یورپی یونین اور میکسیکو دونوں نے ان ممکنہ ٹیرفس کو “غیر منصفانہ اور تباہ کن” قرار دیتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے تاکہ یکم اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل کوئی وسیع تجارتی معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔
میکسیکن صدر کلاؤڈیا شین باوم نے ریاست سونورا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں ٹھنڈے دماغ سے کام لینا ضروری ہوتا ہے، ہمیں معلوم ہے کہ کن معاملات پر امریکا کے ساتھ کام کیا جا سکتا ہے اور کن پر نہیں لیکن جو چیز کبھی بھی قابلِ مذاکرات نہیں ہو سکتی، وہ ہماری خودمختاری ہے۔
خیال رہےکہ صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے 23 دیگر تجارتی شراکت داروں بشمول کینیڈا، جاپان اور برازیل کو بھی اسی نوعیت کے خطوط ارسال کیے ہیں، جن میں 20 سے 50 فیصد تک کے ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے تانبے پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان بھی کیا ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں بھی ٹرمپ نے درجنوں ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس سے عالمی منڈیوں میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا، تاہم بعد ازاں ان پر عمل درآمد موخر کر دیا گیا تھا۔
اس بار جب کہ امریکی معیشت مضبوط اور اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر ہے، ٹرمپ ایک بار پھر جارحانہ تجارتی حکمتِ عملی اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے 90 روزہ مہلت کے دوران درجنوں نئے تجارتی معاہدے کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم اب تک وہ صرف برطانیہ، چین اور ویتنام کے ساتھ ابتدائی نوعیت کے فریم ورک معاہدے کر پائے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین انہوں نے
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین