امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کینیڈا، جاپان، برازیل اور دیگر 23 تجارتی شراکت داروں کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں 20 فیصد سے 50 فیصد تک کے یکساں درآمدی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

یہ اقدام امریکی تجارتی پالیسی میں دوبارہ جارحانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں تانبے کی درآمدات پر 50 فیصد محصول بھی شامل ہے، مذکورہ خطوط میں واضح کیا گیا ہے کہ مجوزہ 30 فیصد عمومی ٹیکس موجودہ محصولات کے علاوہ ہوگا۔

جن میں اسٹیل اور ایلومینیم پر 50 فیصد اور گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس شامل ہیں، جو بدستور نافذ رہیں گے، ان ممالک کو یکم اگست تک انفرادی تجارتی معاہدے طے کرنے کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ ان مجوزہ ٹیکسوں سے بچ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:

یہ صدر ٹرمپ کی اس سخت تجارتی حکمتِ عملی کی واپسی ہے جو اس سال کے آغاز میں بھی دیکھی گئی تھی، جب اسی طرح کے محصولات کے اعلانات نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچائی تھی، مگر بعد ازاں انہیں مؤخر کر دیا گیا تھا۔

یورپی یونین اور میکسیکو کا ردعمل

ہفتے کے روز، صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یورپی یونین اور میکسیکو سے تجارتی مذاکرات مکمل معاہدے تک نہ پہنچے تو یکم اگست سے ان کی درآمدات پر 30 فیصد ٹیکس عائد کر دیا جائے گا، یہ اعلان ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ خطوط کے ذریعے کیا گیا، جو تجارتی کشیدگی میں نمایاں اضافے کی علامت ہے۔

اس اعلان سے امریکی اتحادیوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا لگا ہے، اگرچہ عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے لیکن صدر ٹرمپ اپنی پوزیشن پر قائم ہیں، اور ان کا حوصلہ مضبوط امریکی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کی ریکارڈ بلند سطحوں نے بڑھایا ہے۔

مزید پڑھیں:

یورپی کمیشن کو بھیجے گئے خط میں ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ یورپی یونین امریکی اشیاء پر تمام محصولات ختم کرے، کیونکہ اس کا مقصد امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔

یورپی یونین اور میکسیکو، دونوں نے مجوزہ محصولات کو غیر منصفانہ اور تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ تاہم، دونوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ مقررہ تاریخ سے قبل کوئی وسیع تر معاہدہ طے پا سکے۔

میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باوم نے کہا کہ انہیں اب بھی امید ہے کہ کوئی معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔ ’میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ان معاملات میں ٹھنڈے دماغ سے کام لینا ضروری ہے، ہم جانتے ہیں کہ کن امور پر امریکا کے ساتھ کام کیا جا سکتا ہے اور کن پر نہیں، اور ہماری خودمختاری پر کبھی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔‘

مزید پڑھیں:

یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لائن نے کہا کہ یورپی یونین امریکا کو مکمل، کھلی منڈی تک رسائی دے گی، بغیر کسی ٹیکس کے، تاکہ تجارتی خسارہ کم کیا جا سکے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ 30 فیصد محصولات اہم ٹرانس ایٹلانٹک سپلائی چینز کو متاثر کریں گے، جس سے دونوں جانب کے کاروبار، صارفین اور مریض متاثر ہوں گے۔

فی الحال صدر ٹرمپ صرف برطانیہ، چین، اور ویتنام جیسے چند ممالک کے ساتھ بنیادی تجارتی معاہدوں تک پہنچے ہیں، جب کہ دیگر اہم شراکت داروں سے بات چیت جاری ہے۔

میکسیکو اور کینیڈا سے متعلق خط و کتابت میں فینٹینیل کی اسمگلنگ کا ذکر

میکسیکو پر مجوزہ ٹیکس کی شرح کینیڈا کی 35 فیصد شرح سے کم ہے، تاہم دونوں ممالک کے ساتھ کی گئی خط و کتابت میں فینٹینیل کی اسمگلنگ کا ذکر کیا گیا ہے حالانکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فینٹینیل کی زیادہ مقدار میکسیکو کی سرحد سے پکڑی جاتی ہے نہ کہ کینیڈا سے۔

صدر ٹرمپ نے لکھا کہ میکسیکو نے سرحدی سلامتی میں میری مدد کی ہے، مگر جو کچھ میکسیکو نے کیا، وہ کافی نہیں ہے۔ میکسیکو ابھی تک ان کارٹیلز کو نہیں روک سکا جو شمالی امریکا کو منشیات کی تجارت کا میدان بنانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین فینٹینیل بنانے والے کیمیکل کا بنیادی سپلائر ہے۔

مزید پڑھیں:

امریکی حکام کے مطابق صرف 0.

2 فیصد فینٹینیل کینیڈین سرحد سے آتا ہے، جب کہ بھاری اکثریت میکسیکو کی جنوبی سرحد سے اسمگل کی جاتی ہے۔ میکسیکو، جو اپنی 80 فیصد برآمدات امریکا کو بھیجتا ہے، 2023 میں امریکا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا تھا، جس کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت تھی۔

یورپی یونین کا نرم معاہدے کی طرف جھکاؤ

یورپی یونین ابتدا میں امریکا کے ساتھ مکمل تجارتی معاہدے کی خواہاں تھی، مگر اب وہ ایک زیادہ لچکدار ’فریم ورک‘ کے ساتھ معاہدے کی خواہاں ہے، جیسا کہ برطانیہ کے ساتھ ہوا، جس میں کئی تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی۔

یورپی یونین کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات ہیں، جرمنی چاہتا ہے کہ جلد از جلد معاہدہ طے پائے تاکہ اس کی صنعتی ضروریات کا تحفظ کیا جا سکے، جب کہ فرانس سمیت کچھ دیگر رکن ممالک امریکا کے سخت شرائط تسلیم نہ کرنے کے حق میں ہیں۔

مزید پڑھیں:

یورپی پارلیمنٹ کی تجارتی کمیٹی کے سربراہ بیرنڈ لانگے نے برسلز پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جوابی اقدامات کرے۔ ’یہ مذاکرات کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ کسی اہم تجارتی شراکت دار سے ایسے سلوک کا جواز نہیں بنتا۔‘

امریکی محصولات سے 100 ارب ڈالر کی آمدن، مگر سفارتی تعلقات متاثر

ٹرمپ کی حالیہ محصولات پالیسی سے امریکی خزانے کو خاصا فائدہ ہوا ہے، امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق جون تک مالی سال میں کسٹمز ڈیوٹیز سے حاصل شدہ رقم 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے، تاہم، ان اقدامات نے امریکا کے قریبی اتحادیوں کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اُرزولا فان ڈیر لائن اسمگلنگ امریکی محصولات برازیل تجارتی شراکت داروں ٹرانس ایٹلانٹک سپلائی چینز ٹیکس کی شرح جاپان درآمدی محصولات فینٹینیل کیمیکل کینیڈا میکسیکو یورپی کمیشن یورپی یونین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رزولا فان ڈیر لائن اسمگلنگ امریکی محصولات برازیل تجارتی شراکت داروں ٹیکس کی شرح جاپان درآمدی محصولات فینٹینیل کیمیکل کینیڈا میکسیکو یورپی کمیشن یورپی یونین تجارتی شراکت شراکت داروں فینٹینیل کی یورپی یونین مزید پڑھیں امریکا کے کے ساتھ

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل