ریلوے ٹریک پر ایک اور دھماکہ، جعفر ایکسپریس پھر سے حادثے کا شکار ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
شکارپور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 جولائی 2025ء ) ریلوے ٹریک پر ایک اور دھماکہ کی وجہ سے جعفر ایکسپریس پھر سے حادثے کا شکار ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کےعلاقہ شکارپور کے قریب پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، ریلوے حکام نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس سلطان کوٹ ریلوے سٹیشن کے قریب حادثے کا شکار ہوئی جہاں ریلوے ٹریک پر دھماکےکی وجہ سے مسافر ٹرین کی تین بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں، حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم حادثے کے باعث ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا اور ریلوے ٹریفک بلاک ہوگئی جس کی بحالی کیلئے کام جاری ہے، ریلوے ٹریک کی بحالی کیلئے 10 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بولان کے مقام پر کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفرایکسپریس پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا، ٹرین بولان میں پیروکنری کے علاقے سے گزری تو وہاں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی جس کی وجہ سے ٹرین 8 نمبر ٹنل میں رک گئی اور ٹرین کو پٹری پر دھماکہ سے ڈی ریل کیا گیا، جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل تھی جس میں 500 کے قریب مسافر سوار تھے۔(جاری ہے)
بعدازاں جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز نے بڑی تعداد میں یرغمال مسافروں بشمول عورتوں اور بچوں کو بازیاب کرایا اور موقع پر موجود تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جو بازیاب کرائے گئے بچوں اور خواتین کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے، جس کی وجہ سے کلیئرنیس آپریشن کے دوران انتہائی احتیاط اور مہارت کا مظاہرہ کیا گیا اور معصوم جانیں بچائی گئیں۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جعفر ایکسپریس ریلوے ٹریک کی وجہ سے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔