بھارت میں ہندو یاتریوں کی بس حادثے کا شکار، 18 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں ایک دل دہلا دینے والے ٹریفک حادثے میں ہندو یاتریوں کو لے جانے والی بس تباہی کا شکار ہوگئی۔ جس کے باعث 18 افراد ہلاک ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست اڑیسہ میں خوفناک ٹرین حادثہ، 300 افراد ہلاک، 900 زخمی
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بس یاتریوں کو لے کر ایک مقدس ہندو مقام کی جانب رواں دواں تھی کہ راستے میں گیس سلنڈروں سے لدے ہوئے ایک تیز رفتار ٹرک سے جا ٹکرائی۔
تصادم اتنا شدید تھا کہ بس مکمل طور پر چکناچور ہو گئی، جس کی تصاویر سوشل میڈیا اور نیوز پلیٹ فارمز پر وائرل ہورہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حادثے میں کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ متعدد دیگر زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ریاستی اسمبلی کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ یہ یاتری شراون کے مقدس مہینے میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے سفر کررہے تھے کہ یہ سانحہ پیش آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی شہر اندور کے مندر میں حادثہ، 35 افراد ہلاک
ریسکیو اداروں نے مرنے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا ہے، اور اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بس حادثہ بھارت ریسکیو کارروائیاں ہلاکتیں ہندی یاتری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت ریسکیو کارروائیاں ہلاکتیں ہندی یاتری وی نیوز افراد ہلاک
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔