واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو خبردار کر دیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ طے نہیں پایا تو بھارت کو امریکی منڈی میں 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت ایک دوست ملک ضرور ہے، لیکن اس نے عالمی سطح پر سب سے زیادہ درآمدی محصولات عائد کیے ہیں جو ناقابلِ قبول ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تاحال کوئی جامع تجارتی معاہدہ نہیں ہوا، اور اگر پیش رفت نہ ہوئی تو امریکی انتظامیہ بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرنے میں دیر نہیں کرے گی۔

یاد رہے کہ اپریل میں بھی امریکی صدر نے بھارتی مصنوعات پر 26 فیصد ٹیرف کے نفاذ کا عندیہ دیا تھا، تاہم اس فیصلے کو جولائی تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔

ادھر صدر ٹرمپ ماضی میں بھارت میں ٹیسلا کا مجوزہ مینوفیکچرنگ پلانٹ بھی رکوا چکے ہیں جسے امریکی صنعت پر منفی اثرات کا باعث قرار دیا گیا تھا۔

مزید برآں امریکی صدر نے آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کو بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنی مصنوعات امریکا میں تیار نہ کیں تو اسے بھی 25 فیصد ٹیرف دینا پڑے گا۔

صدر ٹرمپ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ امریکا میں فروخت ہونے والا ہر آئی فون امریکی سرزمین پر تیار ہو، اگر وہ بھارت یا کسی اور ملک میں تیار ہوتا ہے تو ایپل کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصد ٹیرف

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا