بھارت کو ٹرمپ کی نئی وارننگ، تجارتی معاہدہ نہ کیا تو 25 فیصد ٹیرف دینا ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو خبردار کر دیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ طے نہیں پایا تو بھارت کو امریکی منڈی میں 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت ایک دوست ملک ضرور ہے، لیکن اس نے عالمی سطح پر سب سے زیادہ درآمدی محصولات عائد کیے ہیں جو ناقابلِ قبول ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تاحال کوئی جامع تجارتی معاہدہ نہیں ہوا، اور اگر پیش رفت نہ ہوئی تو امریکی انتظامیہ بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرنے میں دیر نہیں کرے گی۔
یاد رہے کہ اپریل میں بھی امریکی صدر نے بھارتی مصنوعات پر 26 فیصد ٹیرف کے نفاذ کا عندیہ دیا تھا، تاہم اس فیصلے کو جولائی تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔
ادھر صدر ٹرمپ ماضی میں بھارت میں ٹیسلا کا مجوزہ مینوفیکچرنگ پلانٹ بھی رکوا چکے ہیں جسے امریکی صنعت پر منفی اثرات کا باعث قرار دیا گیا تھا۔
مزید برآں امریکی صدر نے آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کو بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنی مصنوعات امریکا میں تیار نہ کیں تو اسے بھی 25 فیصد ٹیرف دینا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ امریکا میں فروخت ہونے والا ہر آئی فون امریکی سرزمین پر تیار ہو، اگر وہ بھارت یا کسی اور ملک میں تیار ہوتا ہے تو ایپل کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصد ٹیرف
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔