خیبر پختونخوا میں انوکھی واردات، چور بجلی کی ٹرانسمیشن لائن لے اُڑے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
واقعے کے بعد 40 سے زائد علاقے بجلی سے محروم ہو گئے ہیں اور 12 گھنٹے گزر جانے کے باوجود بجلی بحال نہیں کی جا سکی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں چوری کی واردات میں چور بجلی کی ٹرانسمیشن لائن ہی لے اُڑے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میں موٹروے ناردرن بائی پاس کے قریب بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کی انوکھی چوری نے حکام کو حیران کر دیا، جہاں نامعلوم چور 11 ہزار Kv کی قیمتی بجلی کی لائن چرا کر لے گئے، جس کے باعث دوران پور فیڈر سے بجلی کی ترسیل مکمل طور پر بند ہوگئی۔ واقعے کے بعد 40 سے زائد علاقے بجلی سے محروم ہو گئے ہیں اور 12 گھنٹے گزر جانے کے باوجود بجلی بحال نہیں کی جا سکی۔ حکام کے مطابق چوری کی واردات کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جب کہ بجلی کی بحالی اور مرمتی کاموں کی وجہ سے تاخیر کا امکان ہے۔ دریں اثنا پولیس اور متعلقہ ادارے ملزمان کی گرفتاری کے لیے واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بجلی کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔