امارات نے ویزا چھوٹ بحال کر دی: امریکہ سے تعلقات چاہتے، چین کیساتھ دوستی سے نہ جوڑا جائے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
نیویارک‘ ابوظہبی (آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک ڈیفالٹ کر چکا ہوتا۔ ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے۔ ہمارا ہدف پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہے۔ نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا سرمایہ ہیں۔ حکومتی کوششوں کی بدولت معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ تین سال کی قلیل مدت میں معاشی اشاریوں میں بہتری لائی گئی۔ جی ڈی پی گروتھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ تمام عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری کے معترف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک ڈیفالٹ کر چکا ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ایک مشکل فیصلہ تھا جو ہم نے ملک کی خاطر کیا تھا۔ ہم نے ڈیفالٹ کے خطرے کو دفن کر دیا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں نمایاں حد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے۔ ہمارا ہدف پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہے۔ سفارتی سطح پر بھی اس وقت پاکستان بہت متحرک ہے۔ علاقائی روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔ دورہ افغانستان کے دوران تمام امور پر بات کی۔ افغانستان سے کہا کہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے۔ ہم افغانستان کے خیرخواہ ہیں، ان کی ترقی و خوشحالی چاہتے ہیں۔ 8 سال بعد پاکستان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات انتہائی مفید رہی۔ پاکستان دنیا میں تنازعات کا پر امن حل چاہتا ہے۔ پاکستان اس ماہ کیلئے سلامتی کونسل کی صدارت کیلئے منتخب ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان سفارتی سطح پر بھی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی پاکستان کی بیٹی ہے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے سرتوڑ کوششیں کیں۔ جوبائیڈن کو عافیہ صدیقی کی معافی کی درخواست بھی کی تھی۔ پاکستان امن پسند ملک اور پر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ ہم ہر ایک ملک کی علاقاتی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان نے رافیل طیارے گرا کر بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ پہلگام واقعہ کی آڑ میں بھارت نے جو اقدامات کئے ہم نے بھی ویسے ہی جواب دیا۔ بھارت کیخلاف جنگ میں اللہ تعالی نے پاکستان کو فتح سے نوازا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر ہم نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعہ پر بھارت کو عالمی تحقیقات کی پیشکش کی۔ ہم نے بھارتی پروپیگنڈے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ بھارت کی بوکھلاہٹ ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین آہنی برادر، ہم امریکہ کے ساتھ بھی بہترین تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ امریکہ سے مضبوط تعلقات چاہتے ہیں لیکن ان کو چین کے ساتھ دوستی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج اور حکومت کامیابی کا مظہر بن چکی ہیں اور معیشت سمیت دفاع کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں کشیدگی کے دوران بہادری اور جرات سے صورتحال کا مقابلہ کیا۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ابوظہبی میں یو اے ای کے ہم منصب شیخ عبداﷲ بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ پر ویزا چھوٹ پر اتفاق ہوا ہے۔ یو اے ای حکام نے بتایا کہ ویزا چھوٹ تمام ائیرپورٹس پر فعال کر دی ہے۔ پاکستانی ائیرپورٹ پر بھی یو اے ای شہریوں کیلئے ویزا چھوٹ بحال کر دی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس انتظام کیلئے مفاہمی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ مفاہمتی یادداشت کے 30 دن بعد یہ انتظام نافذ العمل ہونے پر اتفاق کیا گیا۔علاوہ ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے اے پی پی، اے سی وفد نے نیو یارک میں ملاقات کی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اے پی پی، اے سی کی پاکستانی کمیونٹی کو بااختیار بنانے کی کاوشوں کو سراہا۔ اے پی پی، اے سی کی پالیسی ایڈووکیسی اورکمیونٹی لیڈر شپ میں کردار کو سراہا گیا۔ پاکستان، امریکہ کے تعلقات مضبوط بنانے میں اے پی پی، اے سی کے کردار کو پل قرار دیا۔علاوہ ازیں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزراء خارجہ نے غزہ میں انسانی بحران‘ فلسطینی عوام کی مشکلات پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور غزہ کیلئے فوری‘ بلارکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی میں نمایاں ویزا چھوٹ نے کہا کہ اے پی پی
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین