انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے۔عمرایوب خان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کا کہنا ہے اے ٹی سی جج سرگودھا کا فیصلہ ایک مضحکہ خیز فیصلہ ہے۔انہی استغاثہ کے گواہوں کو سابق اے ٹی سی جج سرگودھا نے ناقابل اعتماد قرار دیا تھا.
انہوں نے کہاپنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر، ایم این اے احمد چٹھہ، سابق رکن اسمبلی بلال اعجاز اور پی ٹی آئی کارکنوں کو 10-10 سال کی ناحق سزا سنائی گئی ہے اور یہ فیصلہ موجودہ مسلط کردہ ہائبرڈ نظام اور ان کے ہینڈلرز کے دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔
عمر ایوب خان نے مزید کہا اس غیرمنصفانہ فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔ اے ٹی سی سرگودھا کے جج نے ایسا فیصلہ دے کر نظامِ انصاف کو داغدار کیا ہے۔ نظامِ انصاف کو داغدار کرنے والوں کو ایک دن اللہ رب العزت کی عدالت میں جواب دہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا گلگت بلتستان میں سیلاب سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس
The decision by the ATC Judge Sargodha is a ridiculous decision.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔