یورپ امریکہ تجارتی معاہدہ: کشیدگی کے بعد رہنماؤں کی طرف سے حمایت
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 جولائی 2025ء) امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان اتوار کے روز جس تجارتی معاہدے کا اعلان ہوا ہے، اس کی تفصیلات کا مکمل انکشاف ابھی باقی ہے۔ کئی یورپی رہنماؤں نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم اس پر کئی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی ہو رہی ہے۔
یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کا اعلان اتوار کے روز کیا گیا، جس پر یورپی کمیشن کی صدر ارزلا فان ڈیئر لائن نے کہا کہ یہ معاہدہ "استحکام لائے گا۔
" بعد میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں تک کاروں پر ٹیرفس کی سطح کی بات ہے، تو وہ جو "ہم حاصل کر سکتے تھے اس میں سب سے بہتر ہے۔" اس معاہدے کا یورپی یونین کے لیے مطلب کیا ہے؟تجارتی معاہدے کا مطلب ہے کہ یورپی یونین اب اس 30 فیصد محصولات سے بچ جائے گی، جس کی ٹرمپ نے 12 جولائی کو یورپی یونین کے تمام سامان پر نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
(جاری ہے)
تاہم اس معاہدے کے لیے اہم سمجھوتے بھی کرنے پڑے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں جب یورپی کمیشن کی صدر ارزلا فان ڈیئر لائن نے بات چیت کے آغاز پر "صنعتی سامان کے لیے صفر کے بدلے صفر ٹیرف" کی پیشکش کی تھی۔
پھر بھی فان ڈیئر لائن نے کہا کہ "متعدد اسٹریٹجک مصنوعات پر صفر کے بدلے صفر ٹیرف" پر اتفاق ہوا ہے، جس میں ہوائی جہاز اور اس کے پرزے، کچھ کیمیکلز اور بعض زرعی مصنوعات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یورپی کمیشن نے جو تجارتی معاہدہ منظور کیا ہے، اس کو تمام 27 رکن ممالک سے منظور کرنا لازمی ہو گا۔
جرمن چانسلر نے تجارتی معاہدے کا خیرمقدم کیاجرمن چانسلر فریڈرش میرس نے یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان اس تجارتی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جس کے تحت امریکہ میں داخل ہونے والے یورپی یونین کے سامان پر اب سے 15 فیصد اضافی محصول نافذ ہو گا۔
میرس نے اتوار کی شام کو جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا، "اس طرح ہم اپنے بنیادی مفادات کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، گرچہ میں ٹرانس اٹلانٹک تجارت میں مزید ریلیف کا خواہش مند تھا۔"
جرمن چانسلر کے مطابق معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں "برآمد پر مبنی جرمن معیشت کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر یہ آٹو موٹیو انڈسٹری پر لاگو ہوتا ہے، جو اب 27.
واضح رہے کہ امریکہ جرمنی کا اہم تجارتی پارٹنر ہے۔
معاہدہ معیشت کے لیے اہم، لیکن ٹیرفس کا نہ ہونا بہتر تھاامریکہ اور یورپی یونین کے تجارتی معاہدے تک پہنچنے کے بعد ڈچ وزیر اعظم ڈک شوف نے یورپی کمیشن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کمیشن نے "ہمارے کاروبار اور صارفین کے لیے ممکنہ طور بہترین نتائج کو محفوظ بنایا ہے۔
"لیکن شوف نے یہ بھی لکھا کہ "یقینا، اگر کوئی ٹیرف نہ ہوتا تو بہتر ہوتا، لیکن یہ معاہدہ ہمارے کاروبار کے لیے مزید وضاحت فراہم کرنے کے ساتھ ہی مارکیٹ میں مزید استحکام بھی لاتا ہے۔"
آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے بھی یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کے ملک میں "بہت سی ملازمتوں کے تحفظ" میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ "ہمیں اس مقام تک پہنچانے کے لیے مذاکرات طویل اور پیچیدہ رہے ہیں اور میں دونوں ٹیموں کے صبر آزما کام کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔"
انہوں نے مزید کہا، " جس پر اتفاق ہوا ہے، اب ہم اس حوالے سے آئرلینڈ سے امریکہ کو برآمد کرنے والے کاروباروں اور یہاں کام کرنے والے مختلف شعبوں سمیت اس کے اثرات کی تفصیل کا مطالعہ کریں گے۔
" پندرہ فیصد محصولات کی سطح 'پائیدار' ہےاٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کو "مثبت" قرار دیا لیکن انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس کی مزید تفصیلات دیکھنے کی ضرورت ہو گی۔
اٹلی امریکہ کے لیے یورپ کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، جس کا تجارتی سرپلس 40 بلین یورو سے زیادہ ہے۔
میلونی نے کہا، "میں اسے مثبت سمجھتی ہوں کہ ایک معاہدہ ہو گیا ہے، لیکن اگر میں تفصیلات نہیں دیکھتی تو میں اس کا بہترین انداز میں فیصلہ کرنے کی قابل نہیں ہوں۔"
میلونی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ "استحکام کو یقینی بناتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ 15 فیصد ٹیرفس "پائیدار ہے، خاص طور پر اگر اس فیصد کو سابقہ ڈیوٹی میں شامل نہ کیا جائے، جیسا کہ حقیقت میں پہلے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
" انڈسٹری لابی کی تجارتی معاہدے پر تنقیدفیڈریشن آف جرمن انڈسٹریز (بی ڈی آئی) نے یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایسا "ناکافی سمجھوتہ" قرار دیا، جو "تباہ کن سگنل" بھیجتا ہے۔
طاقتور انڈسٹری لابی گروپ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین تکلیف دہ ٹیرفس قبول کر رہی ہے اور 15فیصد ٹیرف کی شرح کے اہم منفی نتائج کی توقع ہے۔
بی ڈی آئی نے کہا کہ اسٹیل اور ایلومینیم کی برآمدات پر معاہدے کا نہ ہونا ایک "اضافی دھچکا" ہے۔
ادارت: جاوید اختر
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے مزید کہا تجارتی معاہدے کا یورپی یونین کے یورپی کمیشن نے کہا کہ نے یورپی کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔