امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لاین کے ساتھ اہم تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت یورپی برآمدات پر 15 فیصد بنیادی محصولات عائد ہوں گے، جبکہ چند اہم شعبوں میں رعایت بھی دی جائے گی۔

یہ ملاقات اسکاٹ لینڈ کے شہر ٹرن بیری میں صدر ٹرمپ کے ذاتی گالف ریزورٹ میں ہوئی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا کہ یہ معاہدہ دونوں فریقین کے لیے ’’اچھا اور متوازن‘‘ ہے۔

ٹرمپ نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر یکم اگست تک معاہدہ نہ ہوا تو یورپی اشیاء پر 30 فیصد امریکی ٹیکس عائد کر دیا جائے گا۔ تاہم اب اس نئی پیش رفت کے بعد یہ خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے۔

معاہدے کے مطابق، یورپی یونین امریکی مائع قدرتی گیس (LNG) کی خریداری میں اضافہ کرے گی، جبکہ آئرلینڈ سے درآمد ہونے والی ادویات اور سیمی کنڈکٹرز پر بھی 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اسٹیل کی ایک محدود مقدار بغیر ٹیکس امریکی منڈی میں داخل ہو سکے گی۔

یورپی سفارتکاروں نے اس معاہدے کی ابتدائی منظوری دے دی ہے، تاہم مکمل نفاذ کے لیے تمام 27 رکن ممالک کی توثیق درکار ہے۔ دوسری جانب اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو یورپی یونین نے 109 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کا اب تک کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ ہے، لیکن حالیہ گیلپ سروے کے مطابق ان کی عوامی مقبولیت 37 فیصد تک گر چکی ہے، جو جنوری کے مقابلے میں 10 پوائنٹس کم ہے۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ "90 دن میں 90 معاہدے" کریں گے، تاہم اب تک صرف پانچ معاہدے طے پا سکے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔

مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی