افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر عائد تجارتی پابندیوں کے خاتمے پر بڑی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 جولائی ۔2025 )افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر عائد تجارتی پابندیوں کے خاتمے کے سلسلے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، دونوں ممالک کا ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندیوں کے خاتمے پر اتفاق کر لیا ہے رپورٹ کے مطابق ذرائع وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ افغانستان نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں اضافے کے لیے پاکستان سے سہولیات مانگ لی ہیں، پاکستان کی جانب سے جائزے کے بعد پابندیاں ہٹانے پر اتفاق کیا گیا.
(جاری ہے)
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندیاں ختم کرنے کا معاملہ حالیہ مذاکرات میں آیا تھا جس میں افغان وفد کی قیادت نائب وزیر صنعت و تجارت اور پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری تجارت نے کی تھی، مذاکرات میں افغانستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ پر تمام پابندیاں ختم کرنے کی تجویز دی تھی اور تمام اشیا پر عائد پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا. افغان حکومت کا مقف تھا کہ افغانستان کی معیشت بہتر ہونے سے افغانستان کی درآمدات بڑھ گئی ہیں، اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے باعث افغانستان کی معیشت کا حجم بڑھ رہا ہے چنانچہ پڑوسی ملک نے ٹرانزٹ ٹریڈ پر SRO1397/2023ختم کرنے کی تجویز دی . افغانستان صنعتی استعمال کے لیے مطلوب ضروری اشیا کی لسٹ فراہم کرے گا، پاکستان نے ضروری اشیا کا جائزہ لے کر پابندی والی لسٹ سے مصنوعات کے نام نکالنے کی یقین دہانی کرائی، پڑوسی ملک کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اشیا پر 10 فی صد پروسیسنگ فیس بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے 53 فی صد اشیا پر پابندی پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے، پاکستان کی جانب سے پروسیسنگ فیس کے خاتمے کے لیے افغانستان سے لسٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، فہرست کا جائزہ لینے کے بعد پراسیسنگ فیس خاتمے کے پر بھی اتفاق کیا گیا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ٹرانزٹ ٹریڈ پر کے خاتمے
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں