موٹروے پر بے قابو بس کھائی میں جاگری، 6 افراد جاں بحق، 24 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
اسلام آباد سے لاہور جانے والی ایک مسافر بس موٹر وے پر ڈھوک سیال کے قریب خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں 6 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 2 درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:جام شورو: مسافر بس کو المناک حادثہ، 16 جاں بحق، 30 زخمی
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب تیز رفتاری کے باعث بس کا ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور وہ سڑک سے پھسل کر گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد قریبی ٹراما سینٹر کلر کہار اور ضلعی اسپتال چکوال (ڈی ایچ کیو) منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان سے راولپنڈی آنے والی مسافر بس کو حادثہ، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
موٹروے پولیس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ بدقسمت بس اسلام آباد سے لاہور کی جانب روانہ ہوئی تھی، اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی وجہ ڈرائیور کی غفلت اور لاپرواہی تھی۔
حکام نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔
رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔