یوٹیوب کی بیرل سے جھوٹ کے گولے
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
تعلیم و تربیت کسی بھی معاشرے کی روح اور اساس ہوتی ہے۔ یہی عمل فرد کی سوچ، کردار، طرزِ عمل اور مجموعی قومی مزاج کو تشکیل دیتا ہے۔ اگر علم درست ہو تو تربیت مثبت ہو گی اور اگر علم گمراہ کن ہو تو تربیت بھی ایسی نسل کو جنم دیتی ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ سمجھنے لگتی ہے۔ہمارےاسلاف کے دور میں اگرکوئی فرد غلط حرکت کرتا تو لوگ اکثر یہ سوال کرتے کہ اس کا استاد کون ہے؟ اور دوسرا جملہ یہ ہوتا کہ شایداس کی تربیت میں کمی رہ گئی ہے۔ یہ طرزِ فکر اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ کسی بھی فرد، قوم یا ریاست کی ترقی یا زوال میں تعلیم و تربیت بنیادی ستون ہوتے ہیں۔آج کے دور میں، جب تربیت کمزور اور علم مصنوعی ہو چکا ہے، سوشل میڈیا نے وہ خلا پر کیا ہے جو کتابوں، اساتذہ اور خاندانی تربیت نے چھوڑا،، مگر افسوس یہ خلا سچائی سے نہیں بلکہ جھوٹ، بہتان، عریانیت اور زہر سے بھر گیا ہے ۔ سوشل میڈیا طلسمی بادل کی مانند فضا عالم پر چھایا ہوا ہے، ہر لمحہ گرج چمک کے ساتھ زہر برساتا ہے ۔ اس بارش میں جھوٹ، فریب، مصنوعیت اور اخلاق سوز مواد تیر رہا ہے، جو نہ صرف اخلاقی آلودگی پھیلا رہا ہے بلکہ معاشرے کی فکری جڑیں بھی کھوکھلی کر رہا ہے۔ نوجوان ذہنوں پر جھوٹ اور گمراہی کی یہ موسلا دھار بارش ان کے کردار، فکر اور قومی وابستگی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ زہرصرف اخلاقیات ہی کونہیں بلکہ ریاستی وحدت، قومی نظریے اور معاشرتی ہم آہنگی کو بھی برباد کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا کے طوفانی اور بےہنگم بہاو کو اگر ضابطوں کے بند میں نہ باندھا گیا تو یہ آنے والی نسل کی سوچ اور مزاج کو برباد کر دے گا۔ جتنا نقصان سوشل میڈیائی خرافات نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے، تہذیب،اتحاد اوراخلاقیات کوپہنچایا ہے،اتناشاید ہیروئن یا کلاشنکوف کلچر نے بھی نہیں پہنچایا۔یہ فتنہ انگیز مواد قومی وحدت میں دراڑیں ڈال رہا ہے۔ سیاسی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ حب الوطنی کمزور ہو چکی ہے، اور دشمن کی نظریں ہماری اس کمزوری کو نوچنے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔مئی کے پہلے ہفتے دشمن نے ہماری کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک رعونت سے بھرپور حملہ کیا۔ لیکن الحمدللہ، ہماری بہادر مسلح افواج اور بیدار قوم نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ یہ لمحہ فخر کا تھا، لیکن کچھ عناصر نےاسی لمحے کو ملک دشمن بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔یوٹیوب کو مورچہ بنایا گیا اور وہاں سےجھوٹ، پروپیگنڈے، گالم گلوچ اور بہتان کے گولے برسانے کا افسوسناک کام کیا ۔ وہ عناصر جو بظاہر ایک سیاسی طبقےکی حمایت کررہے تھے، درحقیقت ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا تھے، اور اس کے عوض ڈالرکما رہے تھے۔اب ریاست نے بالآخر ایسے ستائیس یوٹیوب چینلز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، جو جھوٹ، افواہوں، اور ریاستی اداروں کی تضحیک پر مبنی مواد نشر کر رہے تھے۔ یہ وہ ناپاک ذہن تھے جو سچائی کو دفن کر کے جھوٹ کا علم بلند کیے ہوئے تھے۔ ان کے الفاظ تیر کی طرح تھے، جنہوں نے قوم کے شعور کو زخمی کیا، ریاستی وقار کو روند ڈالا، اور عوامی اعتماد کو متزلزل کیا۔ان کے لبوں پر سیاسی نعرے تھے لیکن دل غلامی کے سوداگر۔ ان کے مورچوں سے نکلنے والی ہر ویڈیو، ہر تجزیہ، ہر خبر دراصل دشمن کے لیے مواد تھی۔ یہ زہریلے پروپیگنڈا باز یوٹیوب پر بیٹھ کر نئی نسل کے ذہنوں کو مسموم کر رہے تھے، قومی وحدت کو زہر آلود کر رہے تھے، اور حب الوطنی کو مجروح کر رہے تھے۔یہ وطن فروش لوگ دشمن کی شکست کے باوجود مسلسل اپنی زبان سے فتح کا زہر گھولتے رہے۔ عوام کے دل زخمی تھے، فوج کے جوانوں کے ماتھے پر پسینہ اور شہدا کے ورثا کی آنکھوں میں آنسو اور یہ عناصر دشمن کے حق میں بیانیے تشکیل دے رہے تھے۔اب وقت آن پہنچا ہے کہ ایسے آستین کے سانپوں کا اگر سر نہیں کچلا جا سکتا تو کم از کم ان کے زہریلے دانت ضرور نکال دئیے جائیں۔
ریاست کو چاہیے کہ ان افراد کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائی کرے بلکہ جرم ثابت ہونے پر انہیں ایسی مثال بنائے کہ آئندہ کوئی شخص مادر پدر آزادی کے نام پر سچ کا گلا نہ گھونٹے، اور دشمن کے حق میں وطن فروش بیانئے نہ پھیلائے ۔ یوٹیوب اگر علم، آگاہی اور تربیت کا مورچہ بنے تو یہ قوم کے لیے نعمت ہے۔ لیکن اگر وہ جھوٹ، فتنہ اور پروپیگنڈے کا اڈہ بن جائے تو ریاست کو لازم ہے کہ وہ اپنی آئینی طاقت استعمال کرے۔ ہمیں ایک ایسا سوشل میڈیا درکار ہے جو نئی نسل کے ذہنوں کو روشن کرے، نہ کہ زہریلا کرے۔یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم اپنابیانیہ طےکریں، اپنی حدود واضح کریں، اور فتنہ پروروں کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کریں۔ یہ سچ ہے کہ الفاظ تیر سے زیادہ گہرے زخم چھوڑتے ہیں، اور سوشل میڈیا کے ان خودساختہ شہسواروں نے قوم کے شعور پرایسے زخم لگائے ہیں جن کے نشان وقت بھی شاید مٹا نہ سکے۔اب خاموشی جرم ہے اور سچ بولنا قومی فریضہ۔ ہمیں چننا ہو گا کہ ہم اس جنگِ بیانیہ میں وطن کے ساتھ کھڑے ہیں یا اس کے خلاف، کیونکہ جو الفاظ آج دشمن کے مفاد میں بولے جا رہے ہیں، وہ کل ہماری آنے والی نسلوں کے ضمیر کا بوجھ بنیں گے۔ریاست کو چاہیے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ قومی غیرت کو بھی مقدم رکھے، کیونکہ اگر ایک زہریلا مورچہ بند نہ کیا گیا تو سچائی کے قلعے کبھی مضبوط نہیں ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کر رہے تھے کے خلاف دشمن کے رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔(جاری ہے)
وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔