انٹرنیشنل اٹامک ایجنسی نے نطنز میں ایرانی جوہری تنصیب پر اسرائیلی حملے کی تصدیق کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
انٹرنیشنل اٹامک ایجنسی نے نطنز میں ایرانی جوہری تنصیب پر اسرائیلی حملے کی تصدیق کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی صبح کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے نطنز میں واقع جوہری افزودگی کے مرکزی مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا: “ایران میں تشویشناک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔۔
آئی اے ای اے کے مطابق ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہ کر تابکاری (ریڈی ایشن) کی سطح اور نطنز میں موجود ایجنسی کے معائنہ کاروں (انسپیکٹرز) کی سلامتی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
نطنز ایران کی سب سے اہم اور حساس یورینیم افزودگی کی تنصیب سمجھی جاتی ہے، جہاں ماضی میں بھی متعدد حملے اور سائبر حملے ہو چکے ہیں۔ یہ حالیہ حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسعودی عرب سمیت متعدد ممالک کی ایران پر ’اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کی ایران پر ’اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، ایرانی حملوں پر دفاع کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ ایران کا بھرپور جوابی وار، اسرائیل پر 100 سے زائد ڈرونز سے حملہ پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز پر اسرائیلی حملے میں میجر جنرل محمد باقری شہید، مغربی میڈیا اسرائیل نے اپنے لیے تلخ اور تکلیف دہ قسمت کا انتخاب کیا، سزا ضرور ملے گی: خامنہ ای اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، فوج اورپاسدران انقلاب کے سربراہان، کئی جوہری سائنسدان اور کمانڈر شہیدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔