اسرائیل کا ایران پر تازہ حملہ، 20 بچوں سمیت 60 ایرانی شہید
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
ایران کی جانب سے 200 بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیلی حکومت نے ائیرفورس کو فری ہینڈ دے دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
،اسرائیل نے اپنی ایئرفورس کو ایران پر حملے کی مکمل آزادی دے دی ہے
ایران کی جانب سے گزشتہ رات سے اب تک تقریباً 200 بیلسٹک میزائل اسرائیل پر داغے جانے کے بعد اسرائیلی حکومت نے کارروائی کے لیے فری ہینڈ دے دیا،
تازہ اسرائیلی حملے میں 20 بچوں سمیت 60 ایرانی شہری شہید ہوگئے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج ( آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے اصفہان نیوکلیئر سائٹ پر حملہ کر کے اہم تنصیبات اور لیبارٹریز کو تباہ کر دیا ہے، مزید دو ایرانی جنرل کو بھی مار دیا گیا ہے۔
آئی ڈی ایف کے مطابق اصفہان میں سرگرمیاں واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ ایران ہتھیاروں کے لیے یورینیم افزودہ کر رہا تھا، تہران کے راستے کو ’صاف‘ کر لیا ہے اور اب اسرائیلی فضائیہ تہران کی فضاؤں میں آزادانہ کارروائیاں کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی جوہری سائنسدانوں، فوجی حکام، اور میزائل لانچنگ سسٹمز کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، اور کارروائیاں جاری رکھے گا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے سپریم لیڈر کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل پر میزائل حملے جاری رہے تو تہران جل کر راکھ ہو جائے گا۔
انہوں نے آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر، موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ برنیع اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس کے دوران کہا کہ ایرانی آمر ایران کے شہریوں کو یرغمال بنا رہا ہے، اور ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر رہا ہے جس میں خاص طور پر تہران کے رہائشیوں کو اسرائیلی شہریوں پر مجرمانہ حملے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
کَاٹز نے خبردار کیا کہ اگر خامنہ ای نے اسرائیلی شہری علاقوں پر میزائل داغنے کا سلسلہ جاری رکھا تو تہران جل جائے گا۔
ایران کی فضائی حدود بند
ایران نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود مزید احکام تک بند کر دی گئی ہیں،
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں سمیت جو ممالک اسرائیل کا دفاع کریں گے، اُنہیں بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایرانی حملوں میں استعمال ہونے والے متعدد ڈرونز کو فضائیہ اور بحریہ نے تباہ کر دیا۔
اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے درجنوں بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کرنے کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔
غزہ سے دو راکٹ داغے گئے، جو کھلے میدان میں گرے اور کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ صورتحال خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات کو بڑھا رہی ہے، بین الاقوامی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیلیں متوقع ہیں۔
20 بچوں سمت 60 ایرانی شہید
ایرانی کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران پر تازہ ترین اسرائیلی حملوں کے نتیجے 60 شہری شہید ہوئے ہیں، شہید ہونے والوں میں 20 بچے بھی شامل ہیں۔
قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کرنے والا اسرائیل جواب ملنے پر بوکھلا گیا ہے،
صہیونی افواج نے دوسرے روز بھی ایران کے مختلف شہروں پر بمباری کی ہے، مہر آباد ایئرپورٹ اور زنجان میں فوج چھاؤنی سمیت کئی مقامات پر آگ و خون کی ہولی کھیلی گئی۔
اسرائیلی فوج اور فضائیہ نے ایران میں اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں اب بھی دھماکوں اور فضائی دفاعی سرگرمیوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔
ویڈیوز اور رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وردآورد کے علاقے میں ایک ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جنوبی ایران کے علاقے عبدانان سمیت بعض دیگر مقامات پر بھی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی تہران کے علاقوں حکیمیہ اور تہران پارس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایرانی خبررساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق حکیمیہ میں امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔
سرکاری ذرائع نے مہرآباد کے علاقے میں ایک بڑے دھماکے کی تصدیق کی ہے، جہاں ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
جاری کردہ ویڈیوز میں علاقے میں آگ اور دھویں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔
تاہم کچھ ذرائع نے مہرآباد کے قریب واقع آزادی ٹاور کو نقصان پہنچنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اصفہان میں پاور اسٹیشن کے قریب دھماکے کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسرائیل کا کی جانب سے کیا ہے کہ کے مطابق نے ایران ایران کے گیا ہے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی