اسرائیلی حملے پر انکشاف کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی قیادت کو شہید کر دیا گیا، لیکن اسرائیل اس سب میں اکیلا نہیں ہے، اسے عالمی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اور عالمی حالات پر پُرجوش اور جذباتی خطاب کرتے ہوئے مسلم دنیا کو بیدار ہونے کی اپیل کی۔ خواجہ آصف نے اپنے خطاب کا آغاز گزشتہ شب اسرائیل کے ایران پر حملے کے مذمت سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان کھلی جنگ جاری ہے، اور ایران صرف ہمارا ہمسایہ ہی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تعلقات، اخوت، تاریخ اور ثقافت کا رشتہ رکھتا ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل اس وقت یمن، ایران اور فلسطین کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، اگر آج مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو یاد رکھیں، کل ہر ایک کی باری آئے گی۔ وزیر دفاع نے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسلم ممالک کو متحد ہو کر اسرائیل کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف اب صرف مسلم دنیا نہیں بلکہ مغربی دنیا کی عوام بھی کھل کر آواز بلند کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غیرمسلم دنیا کے ضمیر تو جاگ گئے، مگر افسوس کہ مسلمان حکمران ابھی بھی خواب خرگوش میں ہیں۔ وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں بھارت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہم پر حملہ کیا اور اسے اس کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑی، نہ صرف ان کی افواج کی تذلیل ہوئی بلکہ ان کا عالمی تاثر بھی خاک میں مل گیا۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو مٹی میں رول دیا، ہماری افواج کی طاقت اور عوام کی یکجہتی نے دشمن کو بے نقاب کر دیا۔

انہوں نے اسرائیلی حملے پر مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی قیادت کو شہید کر دیا گیا، لیکن اسرائیل اس سب میں اکیلا نہیں ہے، اسے عالمی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی دنیا کے وہ ممالک جو اسرائیل کے ساتھ سفارتی یا تجارتی تعلقات رکھتے ہیں، انہیں فوری طور پر یہ تعلقات منقطع کر دینے چاہئیں، اسرائیل کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، ایسے ہاتھ کو تھامنے کے بجائے جھٹک دینا چاہیے۔

خواجہ آصف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان آج بھی اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ نہ اسرائیل کو تسلیم کیا، نہ ہی کبھی تعلقات قائم کیے۔ انہوں نے اسرائیل جانے والے پاکستانی نژاد افراد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ گزشتہ برسوں میں اسرائیل گئے، کس کی معاونت سے گئے، میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ لیکن پاکستان کا ریاستی مؤقف کبھی نہیں بدلا، ہم ہر سطح پر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ایرانی ہمارے بھائی ہیں، ان کا دکھ، درد اور غم ہمارا مشترکہ درد ہے، ہم ایرانی مفادات کا تحفظ کریں گے اور ہر عالمی فورم پر ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بنیان مرصوص اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کو کئی فوائد حاصل ہوئے، اور عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا۔ خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر ابھینندن کے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھارتی پائلٹ کو گرفتار کیا گیا تو کمیٹی روم نمبر 2 میں ڈیڑھ گھنٹے تک اجلاس ہوتا رہا، آخرکار ہم نے دشمن کو واپس بھیج دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ لمحہ تھا جب ایوان میں کانپیں ٹانگنے کی باتیں ہوئیں۔ یہ تاریخ ہے، جس پر ہم آج بھی شرمندہ ہیں۔ اس وقت بھی پاک فضائیہ نے بھارت کو شکست دی تھی، مگر سیاسی قیادت کی کمزوری نے قومی وقار کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم اور آرمی چیف نے قومی وقار کو ٹھیس پہنچائی تھی، لیکن اس کے باوجود پاکستان ایئرفورس نے شاندار فتح حاصل کی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ میں نے دونوں ادوار کی صورتحال خود دیکھی، اُس وقت کے وزیراعظم اور آرمی چیف کا حوصلہ بھی دیکھا اور آج کی قیادت کا بھی۔ بھارت نے پاکستان پر جارحیت کی اور اسے بھرپور جواب دیا گیا، کسی مرحلے پر کسی کے ذہن میں یہ خیال تک نہیں آیا کہ قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ کریں گے۔ انہوں نے پاک افواج کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج کے حوصلے بے مثال تھے۔ ایک طویل مدت کے بعد ریاست میں اعتماد بحال ہوا، عوام کا اعتماد بحال ہوا کہ ان کے محافظ دلیر اور باحوصلہ ہیں۔

وزیر دفاع نے فضائیہ کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایئر فورس نے کمال کر دکھایا، جنہوں نے حملہ کیا وہ بھی عش عش کر اٹھے، ہمیں اس تاریخی فتح پر تا قیامت فخر رہے گا۔ خواجہ آصفنے کہا کہ وزیر خزانہ نے بہترین بجٹ پیش کیا، عوام کو مکمل ٹھنڈی ہوا نہیں لگ رہی، آج بھی مسائل میں ہیں لیکن ہم ان مسائل سے نکل رہے ہیں، آئندہ کچھ ماہ یا سال میں بہتر معیشت ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع نے خواجہ آصف نے اسرائیل کے مسلم دنیا کہا کہ اس

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم