اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ ) وزیراعظم محمد شہبازشریف نے  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان،  اسرائیل کی بلا اشتعال اور بلاجواز جارحیت پر، حکومت ایران اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی، جو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے.

حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر صدر پیزشکیان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے اسرائیل کی اشتعال انگیزی اور مہم جوئی کو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے  بہادر  فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ  نسل کشی کی بلا روک ٹوک کارروائیوں کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے جارحانہ رویے اور اس کے غیر قانونی اقدامات کے خاتمے کے لیے فوری اور قابل اعتبار اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس تناظر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔صدر پیزشکیان نے اس مشکل وقت بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے ساتھ پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ  دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو اسرائیل کے ساتھ بحران پر ایران کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل جل  کر کام کریں۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے  ملاقات کی۔ خواجہ سعد رفیق نے عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر وزیر اعظم کو مبارک باد دی اور اس بجٹ کو معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر  بھی گفتگو ہوئی۔ دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے جدید سفری ذرائع کو فروغ دینے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی بنانے سمیت دیگر اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ملک میں الیکٹرک وہیکلز کے فروغ اور صنعت کی ترقی کے لیے پالیسی سازی و حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں الیکٹرک ویکلز پالیسی 2025ء کے مسودے کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس پر مشاورت بھی کی گئی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ الیکٹرک موٹرسائیکل، سکوٹیز، تھری ویلرز، کاریں اور بسوں جیسے جدید سفری ذرائع کو تیزی سے فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ مستقبل کے ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کے لیے الیکٹرک وہیکلز کی توسیع ناگزیر ہے۔ ملک بھر میں چارجنگ سٹیشنز اور بیٹری سواپنگ پوائنٹس کے قیام کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ سہولیات باآسانی میسر آئیں۔ انہوں نے صنعتی شعبے کی استعداد بڑھانے پر بھی زور دیا تاکہ ملک میں ٹو ویلرز اور تھری ویلرز کی مقامی پیداوار کو فروغ ملے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ الیکٹرک ویکلز پالیسی تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جلد مکمل کی جائے اور اسے کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے تاکہ اس پر جلد از جلد عمل درآمد شروع ہو سکے۔ علاوہ ازیں خون عطیہ کرنے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپیل کی ہے کہ پاکستان میں خون کی قلت ایک بڑا مسئلہ ہے، شہری رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کریں۔ دریں اثناء وزیراعظم نے باجوڑ میں رکن قومی اسمبلی‘ معاون خصوصی مبارک زیب کے گھر راکٹ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تحقیقات اور حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔دریں اثناء شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردگان کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اسرائیل کی بلاجواز جارحیت اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ اسرائیلی حملے ایران کی خود مختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری