وزیراعظم نے اپنی نشست خالی کرکے بلوچستان کی طالبہ کو بٹھادیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف سے بلوچستان کی طالبہ درجان بی بی نے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر شہباز شریف نے اپنی نشست خالی کرتے ہوئے اس پر درجان بی بی کو بٹھا دیا۔
وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم میں لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات نے ملک کا نام روشن کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
سعودی عرب نے نوجوانوں کو اے آئی، آئی ٹی تربیت دینے کی پیشکش کی ہے، وزیراعظم شہباز شریفوزیر اعظم نے کہا کہ لیپ ٹاپ اسکیم 2011میں شروع کی گئی، لیپ ٹاپ 100 فیصد میرٹ پر تقسیم کیے جا رہے ہیں، اسکیم کے تحت ایک لاکھ لیپ ٹاپ میرٹ پر تقسیم ہوں گے۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وزیراعظم نے شرکت کی، میرٹ پر لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم لیپ ٹاپ کی تقسیم کا سلسلہ جاری رکھیں۔
بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے بھی طلبا نے میرٹ پر لیپ ٹاپ وصول کیا، بلوچستان کی ہی ایک طالبہ درجان بی بی نے اسٹیج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم سے ملنے کی خواہش کی۔
جب وہ وزیراعظم کے پاس پہنچيں تو شہباز شریف نے اپنی نشست ان کے لیے خالی کردی اور انہیں اپنی نشست پر بٹھایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف اپنی نشست لیپ ٹاپ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔