ایران و اسرائیل میں خفیہ جنگ شدت اختیار کر گئی، دونوں جانب سے مبینہ جاسوس گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران/تل ابیب:ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری خفیہ جنگ نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لیے جاسوسی کرنے کے شبہے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے، کشیدہ صورتحال کے دوران دونوں جانب خفیہ کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس یونٹ نے ہفتے کے روز صوبہ البرز سے دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کا الزام ہے،دونوں افراد ایک سیف ہاؤس میں چھپے ہوئے تھے اور وہاں دھماکہ خیز مواد اور دیگر خفیہ الیکٹرانک آلات کی تیاری میں مصروف تھے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان کے اعترافی بیانات اور مزید تفصیلات جلد عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ اس سے قبل ایرانی فورسز نے وسطی شہر یزد سے بھی پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا، جن پر اسرائیلی کمانڈوز اور ڈرونز کو ایرانی حدود میں داخل ہونے میں معاونت کرنے کا الزام تھا، ان افراد پر اسرائیل کے لیے خفیہ تصاویر لینے اور مخبری کرنے کا بھی الزام ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی داخلی خفیہ ایجنسی شاباک (شین بیت) اور پولیس نے ایران کے لیے جاسوسی کے شبہے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے، ان گرفتاریوں کی مزید تفصیلات جاری کرنے پر عدالتی پابندی عائد کر دی گئی ہے، یہ واضح کیا گیا ہے کہ گرفتاریاں ایران پر اسرائیلی حملوں کے آغاز کے ایک روز بعد عمل میں آئیں۔
خیال رہےکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے، ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں گزشتہ شب اسرائیل کے مختلف شہروں پر ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 14 اسرائیلی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔
یہ حملے اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری اور دفاعی تنصیبات پر حملوں کے بعد کیے گئے، جن میں متعدد سائنسدان اور اعلیٰ فوجی افسران مارے گئے تھے۔ ایران نے ان حملوں کو “خود پر مسلط کی گئی جنگ کا ردعمل” قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مزید جارحیت کی صورت میں اس کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افراد کو گرفتار کیا اسرائیل کے پر اسرائیل کے لیے کیا ہے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔