ترکیبی وعدہ صادق 3 صیہونی حکومت کی آج کی برائیوں اور جارحیت کے جواب میں صیہونی لڑاکا طیاروں کے ایندھن کی پیداواری تنصیبات اور توانائی کی فراہمی کے مراکز کو ڈرونز اور میزائلوں کی ایک جھنڈ سے نشانہ بنایا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے دوسرے اعلامیے میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے لڑاکا طیاروں کے ایندھن کی پیداواری تنصیبات اور توانائی کی فراہمی کے مراکز کو وعدہ صادق 3 کی نئی لہر میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ شعبہ تعلقات عامہ کا دوسرا اعلامیہ بڑے پیمانے پر جارحانہ ڈرون میزائل آپریشن صادق وعدہ 3 کی نئی لہر کے بارے میں شائع ہوا۔ اعلان کا متن حسب ذیل ہے:

بسم‌ الله الرحمن الرحیم
فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَیْکُمْ۔۔۔۔ سوره بقره (آیه ۱۹۴)
جارحانہ کارروائی کے تسلسل میں۔۔۔۔ ترکیبی وعدہ صادق 3 صیہونی حکومت کی آج کی برائیوں اور جارحیت کے جواب میں صیہونی لڑاکا طیاروں کے ایندھن کی پیداواری تنصیبات اور توانائی کی فراہمی کے مراکز کو ڈرونز اور میزائلوں کی ایک جھنڈ سے نشانہ بنایا گیا۔ اگر شرارتیں اور جارحیتیں جاری رہیں تو مسلح افواج کا جارحانہ آپریشن ج۔ا، مزید بھیانک اور وسیع تر ہوتا جائے گا۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کا ایرو اسپیس ڈیفنس سسٹم، مربوط نیٹ ورک اور ملک کے مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کی کمان میں، مختلف علاقوں میں صہیونی فوج کے 3 کروز میزائلوں، 10 ڈرونز اور درجنوں چھوٹے طیاروں کو روکنے اور تباہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈرونز اور مراکز کو

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • ملک بھر میں دکانیں، مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس جلد بند کرنے کا نیا شیڈول جاری
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک