ایران نے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں ’آپریشن وعدہ صادق سوم‘ کے تحت بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کردی۔ ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک4 اسرائیلی شہری ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے گزشتہ شب اسرائیل کے مختلف علاقوں پر200 سے زیادہ بیلسٹک اور کروز میزائل داغے، جن میں اہم عسکری تنصیبات، ایئربیسز اور حساس تحقیقی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ تل ابیب کے جنوبی حصے میں ایرانی حملے میں جانی نقصان ہوا ہے۔

ایرانی میزائلوں نے تل ابیب میں 7 مختلف مقامات کو ہدف بنایا، جس کے بعد شہر میں خطرے کے سائرن بجنے لگے اور شہری جان بچانے کے لیے پناہ گاہوں میں دوڑ پڑے۔

رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں9 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ سینکڑوں رہائشی یونٹس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ایرانی عسکری قیادت کا مؤقف

سپاہ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر جنرل وحیدی نے تصدیق کی کہ ایران نے صہیونی حکومت کے اہم فضائی اڈوں اور دفاعی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن وعدہ صادق سوم جاری رہے گا اور جب تک ضروری ہوا، ایران اپنے دفاع کا حق استعمال کرتا رہے گا۔

حملوں کا پس منظر

یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں9 ایرانی سائنسدانوں سمیت 80 سے زیادہ افراد شہید ہوئے تھے۔ ان حملوں کے ردِعمل میں ایران نے ’وعدہ صادق سوم‘ کے نام سے وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔

بین الاقوامی خدشات

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ صورت حال مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیلی ہلاک ایران آپریشن ایران اسرائیل جنگ تل ابیب وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی ہلاک ایران ا پریشن ایران اسرائیل جنگ تل ابیب وی نیوز ایران نے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت