ایرانی سفیر نے تجارتی راہداریاںجلد کھولنے کی یقین دہانی کرادی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد (نیٹ نیوز) ایرانی سفیر نے سابق چیئرمین سینٹ کو پاکستان ایران تجارتی راہداریاں جلد کھولنے کی یقینی دہانی کرا دی۔ سابق چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ایرانی سفارت خانے پہنچے جہاں انہوں نے ایرانی سفیر سے ملاقات کی اور دونوں کے مابین دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ صادق سنجرانی نے اسرائیل جارحیت کو بھرپور جواب دینے پر ایرانی عوام اور حکومت کو سراہا، صادق سنجرانی نے ضلع چاغی کے پاکستان ایران بارڈ راجے روہتک کو کھولنے کا مطالبہ کیا جس پر ایرانی سفیر نے پاک ایران تجارتی راہداریاں جلد کھولنے کی یقینی دہانی کرائی۔ ایرانی سفیر نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستانی عوام کے غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ سابق چیئرمین سینٹ نے کہا بارڈر ٹریڈ دونوں ممالک کے مقامی افراد کا ذریعہ معاش ہے۔ بلوچستان کی پاکستان ایران بارڈرز پر تجارتی راہداریاں کھولی جائیں، پاک ایران تجارتی راہدریاں دونوں اطراف میں لاکھوں لوگ کا ذریعہ معاش ہے۔ بارڈر ٹریڈ سے دونوں ممالک کے غیر ضروری درآمدی بلز میں کٹوتی ہو گی۔ صادق سنجرانی نے کہا دونوں ممالک کی عوام کا حق ہے وہ ایک دوسرے کی مصنوعات سے مستفید ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایرانی سفیر نے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔